http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 18 December, 2005, 05:04 GMT 10:04 PST

پرائیویٹ کالز کی جاسوسی کا اعتراف

امریکی صدر بش نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد ذاتی طور پر ایک ایسے پروگرام کی منظوری دی تھی جس کے ذریعے بین الاقوامی نجی ٹیلی فون کالز سنی اور ای میلز امریکہ میں پڑھی جاسکتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد اور تنظیموں کو ٹارگٹ کرنا ہے۔

بش کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام دہشتگردی کے خلاف ایک موثر ہتھیار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ذریعے کئی امریکی جانیں بچائی بھی گئی ہیں۔

صدر کے مطابق یہ پروگرام ملک کی سکیورٹی ایجنسی چلا رہی ہے اور یہ امریکی قوانین کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر مرتبہ پینتالیس دنوں کے بعد اس پرورگرام کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس پروگرام کو بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

صدر بش نے ان سینیٹرز پر بھی کڑی تنقید کی جنہوں نے جمعہ کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون، پیٹریاٹ ایکٹ، کی تجدید رکوا دی تھی۔ انہوں نے ان پر غیر ذمہ دار ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’امریکیوں کا دفاع کرنا ہمارا فرض ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ایک تجدید رکوا کر انہوں نے امریکی عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔

صدر بش نے جو اپنے ہفتہ وار خطاب میں صاف طور پر غصے میں دکھائی دے رہے تھے، کہا کہ نیویارک ٹائمز نے یہ رپورٹ شائع کر کے بھی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے دشمنوں کو وہ اطلاع مل گئی ہے جو انہیں نہیں ملنی چاہیئے تھی۔

بش کی جماعت ریپبلیکن پارٹی اور حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹرز نے بش کے پروگرام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔