http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 17 December, 2005, 16:15 GMT 21:15 PST

ترک وزیر اعظم کا یورپ سے شکوہ

ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ یورپی یونین ناول نگار اورہان پاموک کے حوالے سے ان کے ملک کی عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے جب کے پاموک کے خلاف ایک قانونی مقدمہ ہے۔

ترکی کے معروف ناول نگار اورہان پاموک پر اپنی قوم کی تضحیک کرنےکا مقدمہ زیر سماعت ہے اس الزام کے تحت ان پر مقدمہ شروع ہوا شروع ہوتے ہی روک دیا گیا عدالت نے کہا کہ اسے وزارتِ انصاف کے فیصلے کا انتظار ہے اور جب تک وزارت قومی تضحیک کے حوالے سے فیصلہ نہیں کر لیتی اس مقدمے کی سماعت شروع نہیں کی جا سکتی۔

طیب ارداگان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کا عدالت پر دباؤ ڈالنا غلط ہے۔

ناول نگار اورہان پاموک مقدمہ ان کے ایک انٹرویو کے بعد قائم کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ترکی میں تیس ہزار کردوں اور سلطنت عثمانیہ کے زمانے ایک ملین آرمینیائیوں کی نسل کشی کی گئی۔

اورہان پاموک کا کہنا ہے کہ ترکی میں ہر شخص اس کے بارے میں جانتا تو ہے لیکن کوئی اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا۔
ناول نگار ہان موک جن کا معاملہ سب کی توجہ حاصل کر چکا ہے

ترکی کے قوانین کے تحت ترک جمہوریہ، پارلیمان اور ریاستی اداروں کی تضحیک غیرقانونی ہے۔ الزامات ثابت ہونے پر اورہان پاموک کو تین سال تک کی قید ہوسکتی ہے۔

یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیوں کہ انہیں ترکی میں اظہارخیال کی آزادی اور جمہوری اصلاحات کے بارے میں تشویش ہے۔

یورپی یونین کی توسیع سے متعلق اس کے کمشنر کا کہنا ہے کہ وہ پاموک کے مقدمے کو ایک ٹیسٹ کیس سمجھتے ہیں۔ یورپی یونین میں شامل ہونے کے لیے ترکی نے حالیہ برسوں میں کئی اصلاحات کی ہیں جن میں سزائے موت کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

اورہان پاموک ایک معروف ناول نگار ہیں لیکن ترکی میں ان کی طرح ساٹھ سے زائد مصنفین اور پبلشرز پر اس طرح کے مقدمے چل رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے لیے قدامت پسند عدلیہ ذمہ دار ہے۔