Saturday, 17 December, 2005, 03:22 GMT 08:22 PST
یورپی اتحاد کے سربراہان نے ایک رات اور ایک دن کے طویل مذاکرات کے بعد اتحاد کے نئے بجٹ پر معاہدہ کر لیا ہے۔ یہ بجٹ سن دو ہزار سات سے دو ہزار تیرہ تک کے عرصے کے لیے ہو گا۔
اتحاد کے سربراہان حتمی ڈھانچے پر اتفاق نہیں کر پا رہے تھے، جیسا کہ برطانیہ اپنی متنازعہ ربیٹ میں سے کتنی یورپی اتحاد کو دے گا۔
آخر کار برطانیہ نے پیش کش کی کہ وہ اپنی ربیٹ میں سے 12.6 ارب ڈالر کم کرنے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ برطانیہ نے یہ کٹوتی اتحاد کے نئے اراکین کی ترقی کے فنڈ میں مدد کرنے کے لیے کی ہے۔ ان ممالک میں زیادہ تر مشرقی اور وسطی یورپ کے ممالک شامل ہیں۔
اس کے بدلے میں یورپی سربراہان یورپی اتحاد کے سب اخراجات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے لیے تیار ہیں جس میں مہنگی ’کومن اگریکلچرل پالیسی‘ بھی شامل ہے جس کے تحت کسانوں کو سبسڈی دی جاتی ہے۔
ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے نئی اور پرانی یورپی برادری کو یکجہتی سے آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔
جرمن چانسلر اینگلا مرکل اور فرانس کے صدر شیراک نے اسے یورپ کے مستقبل کے لیے ایک اچھا معاہدہ کہا ہے۔