Thursday, 15 December, 2005, 22:10 GMT 03:10 PST
وائٹ ہاؤس اور امریکی سینیٹر جون مکین کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا ہے جس کے تحت مشتبہ غیر ملکی دہشت گردوں کو اذیت دینے اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے پر باقاعدہ پابندی عائد کر دی گی ہے۔
مکین نے جو کہ خود بھی ویتنام میں جنگی قیدی رہ چکے یہ ترمیم فوجی اخراجات کو کم کرنے کی مد میں تجویز کی تھی۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں نے بل کو صدر بش کی اس دھمکی کے باوجود پاس کیا جس کے تحت انہوں نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے قانون کو ویٹو کریں جس کے تحت تفتیش کے طریقۂ کار میں رکاوٹ آسکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس چاہتا تھا کہ سی آئی کے تفتیش کار اپنی مرضی سے تفتیش کریں۔
امریکی سینٹ اور ایوانِ نمائندگان میں رپبلکنز کا کنٹرول ہے اور اس فیصلے کو صدر بش کے لیے ایک طرح کی شرمندگی سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم صدر بش نے مشتبہ دہشت گردوں کو دورانِ تفتیش اذیت دینے کے خلاف قانون کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
صدر بش نے کہا کہ اس معاہدے سے ’دنیا پر واضح ہو جائے گا کہ یہ حکومت تشدد نہیں کرتی اور اذیت سے متعلق بین الاقوامی قوانین کا پاس کرتی ہے وہ چاہے ملک کے اندر ہوں یا بیرونِ ملک‘۔
مکین نے کہا کہ ’ہم نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ امریکہ دہشت گردوں کی طرح نہیں ہے‘۔