Thursday, 15 December, 2005, 11:40 GMT 16:40 PST
نیپال میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک سپاہی کے کٹھمنڈو کے قریب ایک مجمع پر فائرنگ کرنے سے کم از کم گیارہ شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
نگر کوٹ میں واقع ایک مندر میں ہونے والی مذہبی تقریب میں اس فائرنگ سے انیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ سپاہی بھی جو عام لباس میں تھا، اس فائرنگ میں مارا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان سے بحث کے بعد اس سپاہی نے گولیاں برسانی شروع کر دیں۔
ایک مقامی صحافی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مندر میں ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا اور دیہاتی خوف زدہ تھے۔ حکومت اور فوج دونوں نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
سرکاری ریڈیو نے بتایا کہ حکومت مرنے والوں کے خاندان کو حکومت معاوضے کے طور پر دوہزار ڈالر دے گی اور زخمیوں کے علاج معالجے کا خرچہ برداشت کرے گی۔
آس پاس کے علاقوں سے دیہاتی نگرکوٹ کے کالیا مندر میں پورے چاند کے سلسلے میں ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو کے شمال مشرق میں تیس کلو میٹر دور یہ شہر ایک مقبول سیاحتی مقام بھی ہے۔
بعض اطلاعات کے مطابق سپاہی نشے کی حالت میں تھا اور رقص کرنے والی مقامی لڑکیوں سے اس نے بدتمیزی کی۔
فوج کے ایک بیان کے مطابق اس نے اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
زخمی ہونے والے چند کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کو کٹھمنڈو کے فوجی ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
جائے وقوع کا دورہ کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والوں میں بوڑھے، بچے اور عورتیں شامل ہیں۔
نیپال کی فوج پرمسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ فوج نے اختیارات سے تجاوز کرنے والے سپاہیوں کو سزا دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔