Tuesday, 13 December, 2005, 23:30 GMT 04:30 PST
سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے تفتیشکاروں کی اس رپورٹ پر بحث شروع کر دی ہے جو انہوں نے لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کی بم دھماکے میں ہلاکت کے بارے میں تیار کی ہے۔
یہ بم دھماکہ اسی سال فروری میں ہوا تھا اور میں رفیق حریری کے علاوہ دیگر بائیس افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔
سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں تفتیشکاروں کے سربراہ ڈیٹلیو میلس نے اپنی رپورٹ کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس تفتیش سے ہچککچاہٹ اور لیت و لعل کے متضاد اشارے ملتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا اگر تفتیش میں پیش رفت کی موجودہ رفتار کو دیکھا جائے تو اسے سال دو سال میں مکمل کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔
تفتیشکاروں کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اب تک کی تفتیش سے ان کی اس رائے کی تصدیق ہوتی ہے کہ لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے قتل میں شامی انٹیلیجنس کے اہلکار اور ان کے لبنانی ہم منصب ملوث تھے۔
![]() | |
| لبنانی وزیراعظم فواد السنیورہ نے اقوام متحدہ سے تفتیش کا دائرۂ کار وسیع کرنے کی درخواست کی ہے |
اقوام متحدہ میں لبنان کے سفیر نے اس بات پر اصرار کیا کہ تفتیش کا دائرۂ کار لبنان میں سرکردہ افراد کی حالیہ ہلاکتوں تک وسیع کیا جانا چاہیے۔
جب کہ شامی سفیر نے تفتیشکاروں کے سربراہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے تعاون کی ہر ممکن کوشش کی ہے تاہم انہوں تفتیش کاروں کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے اپنے نتائج کو تفتیش مکمل ہونے تک راز نہیں رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ تفتیشکاروں نے انسانی حقوق کے ان بنیادی اصولوں کا بھی پاس نہیں کیا جن کے تحت مشتبہ افراد سے ایسی زبان میں لکھے گئی بیانات پر دستخط نہیں لیے جانے چاہیں جو انہیں آتی ہی نہ ہو۔