Wednesday, 14 December, 2005, 00:22 GMT 05:22 PST
عراق میں جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل امریکہ کی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس نے عراق کے لیے امریکی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ عراق میں حالات معمول پر لانے کے لیے مزید مدد فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا جمعرات کو ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں عراق میں عرب دنیا کی بہترین جمہوری حکومت قائم ہو گی۔
ادھر بیرون ملک مقیم عراقیوں نے عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالنا شروع کر دیے ہیں اورپندرہ ملکوں میں رہائش پذیر تقریباً ڈیڑھ کروڑ عراقی جمعرات تک اپنے ووٹ کا استعمال کر لیں گے۔
عراق میں عام انتخابات سے قبل سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر پانچ روزہ تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
ادھر عراق میں پولنگ سے صرف اڑتالیس گھنٹے پہلے ایک سرکردہ سنی عرب رہنما کو قتل کر دیا گیا ہے۔ عراقی فری پروگریسیو پارٹی کے رہنما مزھر الدلیمی کو مغربی عراق کے قصبے رمادی میں ان کی انتخابی مہم کے دوران قتل کیا گیا ہے۔
جن پندرہ ملکوں میں رہنے والے عراقی جمعرات تک حقِ رائے دہی استعمال کریں گے ان میں آسٹریلیا، آسٹریا، کینیڈا، ڈنمارک، جرمنی، ایران، اردن، لبنان، نیدرلینڈ، سویڈن، شام، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔
انڈیپنڈنٹ الیکٹورل کمیشن کے ترجمان فرید عیار کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے ووٹ اہم ہیں۔