http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 13 December, 2005, 14:57 GMT 19:57 PST

چینی دانشوروں کا کھلا خط

چین میں کئی دانشوروں نے ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں ملک کے جنوب میں مظاہرین پر گولی چلانے کی مذمت کی گئی ہے۔

چین کے صوبے گوانگڈونگ میں حکومت کی جانب سے بجلی کے منصوبے کے لیے مقامی لوگوں کی زمین لے لی گئی تھی جس کی وجہ سے لوگ احتجاج کررہے تھے۔

گزشتہ ہفتے پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے کئی لوگ ہلاک ہوگئے۔ چینی حکومت کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تین ہے لیکن مظاہرین کے حساب سے بیس لوگ مارے گئے ہیں۔

چینی دانشوروں کی جانب سے یہ کھلا خط اہم ہے کیوں کہ چین میں اظہارِ خیال کی آزادی نہیں ہے۔ اس خط میں پولیس کارروائی کا انیس سو نواسی میں تیانانمین سکوائر میں مظاہرین پر ہونے والی فوجی کارروائی سے موازنہ کیا گیا ہے۔

یہ خط انٹرنیٹ پر شائع کیا گیا ہے اور دانشوروں نے اس پر اپنےدستخط بھی کیے ہیں۔ چین کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف کھلے عام احتجاج کی اجازت نہیں دی ہے۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گوانگڈونگ صوبے کے شہر ڈانگژو میں ہونے والی پولیس کارروائی کی تحقیات کی جائے اور صحافیوں کو اس بارے میں آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت دی جائے۔

دانشوروں نے اس خیال کا اظہار بھی کیا ہے کہ چینی سماج کو ایک بحران کا سامنا ہے کیوں کہ امیر لوگ ہر وہ چیز غریبوں سے ہتھیا رہے ہیں جو وہ لےسکتے ہیں جس کی وجہ سے اختلافات پیدا ہورہے ہیں۔

دانشوروں کا کھلا خط اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں چین کے سیاسی نظام کی مذمت کی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمہوریت کے بغیر ان اختلافات کا حل پرامن طور پر نہیں ہوسکتا ہے۔

چین کے دیہی علاقوں میں اختلافات اور جھگڑے عام ہوتے جارہے ہیں اور حکومت کے مطابق گزشتہ سال چوہتر ہزار مظاہرے ہوئے تھے۔