Monday, 12 December, 2005, 02:41 GMT 07:41 PST
اتوار کو ہانگ کانگ میں عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او کے اجلاس کے خلاف پہلا مظاہرہ ہوا۔
ڈبلیو ٹی او کا اجلاس منگل سے شروع ہو رہا ہے اور اس میں ڈیڑھ سو کے قریب ممالک کے وزراء شریک ہونگے۔
اس اجلاس کے خلاف کئی مظاہرے متوقع ہیں اور اتوار کو ہونے والا اس سلسلے کا پہلا مظاہرہ ہے۔
اتوار کے مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین جلوس کی شکل میں شہر کے مخصوص راستوں سے گزرے ان کے ساتھ ساتھ پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔
اس موقع پر میلے جیسا ماحول تھا اور شرکاء نے عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کے خلاف رنگ برنگے بینر اٹھا رکھے تھے۔
مظاہرین کی ایک بڑی تعداد فلپائن اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے مزدوروں کی تھی۔
عوامی اتحاد کی تنظیم ’ہانگ کانگ پیپلز الائنس‘ کی کارکن ایلزبتھ ٹینگ کا اس احتجاج کے بارے میں کہنا تھا کہ ’ہم اس لیے یہاں آئے ہیں کہ ہانگ کانگ کی حکومت منگل سے اس اجلاس کی میزبانی کر رہی ہے اور اس اجلاس کے ساتھ اب پوری دنیا ہماری آواز کو بھی سننا ہوگا‘۔
![]() | |
| مظاہرین چاہتے ہیں کہ اجلاس میں ایسے تجارتی فیصلے کیے جائیں جو منصفانہ ہوں اور جن سے عام لوگوں کا فائدہ ہو |
عالمی تجارتی تنظیم کے خلاف تمام ہفتے جاری رہنے والے احتجاج میں شریک ہونے کے لیے مزید ہزاروں اور لوگ کی ہانگ کانگ میں آمد متوقع ہے۔
انتظامیہ نے ان حالات سے نمٹنے کے لیے پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور ہنگامی حالات کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔
ہانگ کانگ پولیس کے ترجمان پیٹر وِنگ کہتے ہیں کہ پولیس کسی قسم کی تخریب یا تشدد کو برداشت نہیں کرے گی۔
ان کا ہنا ہے کہ ’ہم املاک کو نقصان پہچانے یا لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی کسی کارروائی کو برداشت نہیں کریں گے نہ ہی ہم کسی کو کانفرنس میں خلل پیدا کرنے یا ہانگ کانگ کی ٹریفک میں رکاوٹ پیدا کرنے دیں گے۔
ہفتے بھر جاری رہنے والے اس اجتجاج کے منتظمین کہتے ہیں کہ اتوار کا مظاہرہ پُر امن تھا اور ان کی پوری کوشش ہے کہ پورے اجتجاج کو ایسا ہی رکھا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ کسی بھی قسم کی تشدد سے عالمی تجارتی تنظیم کی خلاف ان کا پیغام منفی تاثر پیدا کر سکتا ہے۔
منظمین کا کہنا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ اس اجتجاج کو پُرامن رکھا جا سکے۔