Monday, 12 December, 2005, 03:31 GMT 08:31 PST
لبنانی وزیراعظم حریری کے قتل کی تحقیق کی رپورٹ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کو دیدی گئی ہے۔
کوفی عنان کو دی جانے والی حریری قتل کی اس نئی رپورٹ میں شام پر پھر الزام لگایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس رپورٹ میں ان الزامات کی تفصیل دی گئی ہے۔
رفیق حریری کو اسی سال فروری میں بیروت کے ایک بم دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ لبنان نے اس قتل کی تفتیش کی تھی جسے اقوام متحدہ نے ناقص اور نا مکمل قرار دیا تھا۔
کہا گیا ہے کہ شام پر الزامات کی تفصیل پانچ شامی اہلکاروں سے تفتیش کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔
شام کے صدر بشر الاسد نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اگر کوئی شامی اہلکار اس قتل میں شامل ثابت ہوا تو وہ اسے سزا دیں گے۔
شام اس الزام کی شدت سے تردید کرتا رہا ہے لیکن اس سے پہلے دسمبر میں دی جانے والی عبوری رپورٹ میں بھی شامی اہلکاروں کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔
اس رپورٹ کے بعد لبنانی اور شامی اہلکاروں کو اس بات کا انتظار ہے کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کار نے کون سے نئی شہادت حاصل کی ہے۔
پہلی رپورٹ میں تحقیقات کرنے والے اقوامِ متحدہ کی ٹیم کے سربراہ نے کہا تھا کہ لبنان کے سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری کے قتل میں شام اور لبنان کی شمولیت کے شواہد ملتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رفیق حریری کا قتل کسی ایسے گروہ نے کیا ہے جس کے پاس بے پناہ ذرائع اور ایک وسیع تنظیم ہے۔ رپورٹ کے مطابق کئی شواہد اشارہ کرتے ہیں کہ قتل میں شام کے سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔
یاد رہے کہ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ لبنان میں شام کی فوجی انٹیلیجنس کافی تعداد میں موجود ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قتل کا منصوبہ کئی مہینے پہلے بنایا گیا تھا۔