Friday, 09 December, 2005, 22:09 GMT 03:09 PST
عالمی ایٹمی جوہری ادارہ یعنی آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں دنیا کے صبر کی انتہا ہو رہی ہے۔
البرادعی ناروے کے شہر آسلو میں نوبل امن انعام لینے کے لیے آئے ہوئے ہیں جہاں انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے متعلق تمام مسائل اگلے سال تک طے ہو جائیں گے۔
امریکہ اور یورپی یونین نے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگا یا ہے تاہم ایران نے کہا ہے کہ پروگرام ملک کے پر امن جوہری ضروریات پورا کرےگا۔
آئی اے ای اے نے کئی بار تہران کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
البرادعی نے کہا ہے کہ یورپی نمائندوں کو ایران سے بات چیت جاری رکھنی چاہیئے تاکہ تمام فریقین آپس میں مل بیٹھ کر مسائل حل کر سکیں۔
ایران کے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات اگست تک جاری تھے لیکن اس وقت بند ہو گئے جب ایران نے یورینیم پیدا کرنا شروع کردیا۔
اب تک مذاکرات کو پھر شروع کرنے کی تاریخ طے نہیں ہوئی۔
آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ شفافیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ ابھی بھی بہت شکوک موجود ہیں۔
البرادعی نے کہا ہے کہ انہیں اور آئی اے ای اے کو نوبل امن انعام ملنے سے ثابت ہو تا ہے کہ انہوں نے واقعی دنیا میں امن قائم کرنے کی کوششوں کی ہے۔