Wednesday, 07 December, 2005, 13:13 GMT 18:13 PST
عبدالحئی کاکڑ
پشاور
شمالی وزیرستان میں عینی شاہدین کے مطابق منگل سے ڈاکووں اور مبینہ طالبان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک کم ازکم پندرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سولہ ڈاکوؤں کے علاوہ چار عام لوگ شامل ہیں۔
حکومت نے تاحال واقعے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
عینی شاہدین کے بقول جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب منگل کی سہ پہر تین بجے میران شاہ سے دو کلومیٹردور درپہ خیل میں ڈاکووں نے ایک گاڑی کو روکا اور غنڈہ ٹیکس کا مطالبہ کیا۔ لیکن ٹیکس نہ دینے پر ڈاکووں نے فائرنگ کی جس میں اطلاعات کیمطابق دو بچوں کے علاوہ دو افراد ہلاک ہوئے۔
جھگڑے کی خبر پاتے ہی درپہ خیل میں موجود مبینہ طالبان نے ڈاکووں کیخلاف آپریشن شروع کردیا اور کچھ ڈاکووں کو ہلاک کردیا اور ان کےوہاں موجود ٹھکانوں کو مسمار کردیا۔
عینی شاہدین کے بقول مبینہ طالبان نے چھ ڈاکوؤں کی لاشیں بجلی کے کھمبوں پر لٹکا دیں جن میں ڈاکوؤں کے گینگ کے سربراہ شیرعلی کی لاش بھی شامل ہے۔ ان کے منہ میں سگریٹ اور روپے ٹھونس دیئے گۓ ہیں۔
مبینہ طالبان نے ڈاکووں کو اعلانات کے ذریعے قتل کرنے کے احکامات جاری کیے اور بدہ کو بھی ان کے خلاف آپریشن جاری رکھا۔ شام کے چار بجے دو مختلف جگہوں ڈانڈہ درپہ خیل اور زیڑہ درپہ خیل میں مبینہ طالبان نے ڈاکووں کے دس اور ساتھیوں کو قتل کردیا ہے۔
درپا خیل عام طور پر ڈاکووں کا گڑھ سمجھا جارہاہے اور اسکو حکیم گروپ کے نام سے جانا جاتاہے جن کے ساتھ بیک وقت تقریباً اسی کے قریب ساتھی تھے۔اس گروپ کے خلاف ماضی میں حکومت نے کئی مرتبہ کاروائیاں کی ہیں۔ درپہ خیل میں ذرائع کے مطابق عام لوگ، ڈاکووں کے خلاف آپریشں پر خوشیاں منارہے ہیں اور انکی کھمبوں پر لٹکی ہوی لاشوں کو دیکھنے کے لیے آرہے ہیں۔