Monday, 05 December, 2005, 09:43 GMT 14:43 PST
بغداد میں عراق کے سابق صدر صدام حسین کے خلاف جاری مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کے پہلے گواہ نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ کس طرح سابق صدر کے دور میں ایک شیعہ علاقے میں گرفتاریاں ہوئیں، تشدد کیا گیا اور لوگوں کو قتل کیا گیا۔
سماعت کے دوران پیش ہونے والے گواہ احمد حسن محمد الدجیلی نے عدالت کو دجیل میں ہونے والے قتلِ عام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عراقی فوج کے پاس ایک قیمہ کرنے والی مشین کی طرح کی چیز تھی جس میں زندہ انسانوں کو ڈالا جاتا تھا۔
انہوں نے بغداد کے شمال میں دجیل کے گاؤں میں 1982 میں ایک سو اڑتالیس افراد کی ہلاکتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اکثر اوقات مردہ بچوں کو سرِ عام چھوڑ دیا جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ’میں نے دروازے پر دستک سنی اور خفیہ پولیس کے لوگ اندر آ گئے۔ لوگوں کو جیل لے جایا گیا جہاں زیادہ تر مار دیے گئے۔ یہ بہت خوفناک منظر تھا‘۔
استغاثہ عدالت میں دس ایسے گواہوں کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو دجیل میں ہونے والے قتلِ عام کی تفصیلات بیان کریں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ گواہوں میں سے کچھ اپنی شناخت خفیہ رکھیں گے اور تجزیہ نگاروں کے نزدیک اس سے مقدمے کے شفاف ہونے پر سوال اٹھتا ہے۔
سماعت کے دوران صدام حسین غصے میں نظر آئے اور انہوں نے جج سے مطالبہ کیا کہ انہیں اپنا موقف بتانے کا موقع دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں پھانسی سے نہیں ڈرتا‘۔
اس سے قبل سماعت کے آغاز پر وکلائے صفائی کی ٹیم واک آؤٹ کر گئی تھی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب وکیلِ صفائی نجیب النعیمی نے خصوصی عراقی عدالت کے جواز پر سوال اٹھایا تھا اور جج نے ان کا اعتراض سننے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم جج رزگر محمد امین نے نوّے منٹ کے وقفے کے بعد وکلائے صفائی کو اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دے دی۔
![]() | |
| احمد حسن محمد معزول صدر صدام حسین کے خلاف گواہی دے رہے ہیں |
رمزے کلارک نے عدالت سے کہا کہ ’ اگر اس مقدمے کی سماعت مکمل طور پر شفاف طریقے سے نہیں ہوتی اس سے عراق تقسیم ہو جائے گا‘۔ کلارک نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ دو وکیلوں کے قتل کے بعد ان کے حفاظتی انتظامات میں اضافہ کیا جائے۔
یاد رہے کہ پیر کی کارروائی کے آغاز سے قبل ہی عدالت کے پانچ ججوں میں سے ایک جج نے یہ کہہ کر سماعت میں شریک ہونے سے انکار کر دیا تھا کہ کیونکہ ایک ملزم ان کے بھائی کے قتل میں ملوث رہا ہے اس لیے وہ ذاتی پرخاش کے خدشے کے پیشِ نظر مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتے۔
عراق میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کے جائزہ کار جان پیس کا کہنا ہے کہ ’ نظامِ قانون کی کمزوری، ملکی حالات اور اس ٹرائبیونل کی تشکیل کے نتیجے میں کوئی ایسا عمل نہیں تشکیل پا سکتا جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو‘۔