Monday, 05 December, 2005, 12:54 GMT 17:54 PST
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے دوسرے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کے سلسلے میں منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
ایران اور یورپی یونین کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات چند ہی دنوں میں دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔
اس تجویز کردہ بجلی گھر کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں یہ بجلی گھر جنوب مغربی صوبے خوزستان میں تعمیر کیا جائے گا۔
امریکہ اور یورپی یونین نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ ایران نے اپنا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام جاری رکھا ہوا ہے لیکن تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور مغربی ممالک مسلسل ایران کی غیر واضح جوہری سرگرمیوں پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ وہ مستقبل میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بیس بجلی گھر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔
بی بی سی کے تہران میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بجلی گھر کی تعمیر کے منصوبوں کے اعلان کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ ایران تنقید کا رخ اب اس جانب موڑنا چاہتا ہو کہ اس کے پاس کوئی عملی نیوکلئیر پاور سٹیشنز موجود نہیں ہیں اور اس طریقے سے وہ اپنی یورنیم کی افژدگی کو منصفانہ ثابت کرنا چاہتا ہے۔
ایران کا پہلا بجلی گھر بوشہر میں ہے۔ جس سے بجلی پیدا ہونے کا عمل اگلے سال سے شروع ہو جائے گا۔