http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 04 December, 2005, 13:07 GMT 18:07 PST

مذاکرات میں ایرانی عدم دلچسپی

ایران نے کہا کہ اسے اپنے ایٹمی پروگرام یا عراق کی اندرونی صورتِ حال پر امریکہ سے مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے گزشتہ ہفتے خبریں شائع کی تھیں امریکہ نے عراق میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد کو ایران سے مذاکرات کا اختیار دیا ہے۔

ایرانی دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان حامد رضا آصفی نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اس کا داخلی معاملہ ہے اور اسے اس پر امریکہ سے مذاکرات کے کوئی ضرورت نہیں۔

حامد رضا آصفی کا کہنا ہے کہ جہاں تک عراق کے صورتِ حال کا تعلق ہے تو عراقی عوام خود بالغ نظر لوگ ہیں اور وہ اپنے ملک اور حالات کے بارے میں خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ تا حال ایران کو امریکہ کی طرف سے مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں ملی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایٹمی پروگرام اس کا داخلی سلامتی سے تعلق ہے اور اس پر امریکہ سے بات چیت کو کوئی ضرورت نہیں اس کے علاوہ اس معاملے میں امریکہ کی مداخلت نے پہلے ہی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔

دریں اثناء عراقی دارالحکومت بغداد کے وسطی چوک میں ہونے والے ایک دھماکے میں دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
حامد رضا آصفی
ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی

عراقی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کا نشانہ ایک پولیس قافلہ تھا جو وہاں تھوڑی دیر پہلے گزرنے کی وجہ سے بال بال بچ گیا۔

بتایا گیا ہے کہ یہ دھماکہ ایک بم کے ذریعے کیا گیا جو بظاہر چوک میں کھڑی ایک کار کے برابر رکھا گیا تھا۔

بغداد ہیں ہونے والے تشدد کے ایک اور واقعے میں سکیورٹی فورس کے ایک عراقی کرنل سمیت تین اہلکار ہلاک ہوئے۔

اس کے علاوہ ایک اور واقعے میں مقتدیٰ الصدر کے نمائندگی کرنے والے ایک مذہبی رہنما سالم عبدالحسین المالکی جنوب مشرقی بغداد میں مردہ پائے گئے۔ انہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔