http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 02 December, 2005, 00:05 GMT 05:05 PST

عالمی ایڈز ڈے بھی اختلافات کی نذر

دنیا بھر میں یکم دسمبر کو ایڈز ڈے کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے لیکن عالمی برادری میں اس مرض سے نمٹنے کے طریقوں پر پایا جانے والا عدم اتفاق آج کے دن بھی ختم نہیں ہوسکا۔

سوازیلینڈ جہاں ایچ آئی وی انفیکشن کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے وہاں ایڈز ڈے کی مناسبت سے منعقد ہونے والے پروگراموں کی تعداد کم کر دی گئی اور جنوبی افریقہ کی وزیرِ صحت نے ایڈز کا مرض پیدا کرنے والے مادے سے بچاؤ کی ادویات کی حمایت کرنے سے سرِ عام انکار کر دیا۔

ان کے بیان سے ایڈز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے والوں کو دھچکا لگا ہے۔ جنوبی افریقہ کی وزیر کا کہنا تھا کہ ایڈز دور کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات اس مرض کا علاج نہیں کر سکتیں اور یہ کہ ’اگر مجھے ایڈز ہو جائے تو میں خوراک میں بہتری لاؤں گی اور روایتی ادویات استعمال کروں گی۔‘

ایڈز ڈے پر امریکی صدر جارج بش نے اس وباء کی روک تھام کے لیے مزید فنڈز دینے کا عہد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے فیصلہ کن اقدام کیے جائیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا میں چالیس ملین کے قریب افراد ایڈز یا ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔یواین ایڈز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر پیئٹ نے کہا کہ پچیس برس سے اس مرض کے بارے میں جو سبق سیکھے گئے ہیں وہ بہت واضح ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایڈز کی روک تھام میں سرمایہ کاری کر کے ہر ملک ایڈز کے پھیلاؤ کا رخ واپس موڑ سکتا ہے۔

ایڈز کے عالمی دن پر سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے بی بی سی کے پروگرام ٹاکن پوائنٹ میں کہا کہ ’اخلاقی طور پر یہ اشد ضروری ہے کہ ہمارے پاس جتنی بھی رقم ہے اس سے ایڈز سے متاثر جتنے زیادہ لوگوں کو علاج فراہم کیا جاسکے، کیا جائے۔

اسی دن صحت کے عالمی ادارے نے ایڈز کے مریضوں کو دی جانے والی دواؤں کی منظور شدہ فہرست میں دو مزید دواؤں کا اضافہ کیا ہے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے پر بات کرنے سے کترانے کی بجائے اس معاملے پر شعور اجاگر کرنے کے لیے جنسی مسائل پر کھل کی بات چیت کریں۔

ایڈز کے عالمی دن یورپی یونین کے ملک ایسٹونیہ نے جہاں (یورپی اتحاد کا ملک ہونے کے ناتے) ایڈز کے وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے، ایک دس سالہ منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اس مرض کو کم کیا جائے گا۔

صدر بش نے کہا کہ ان تنظیموں کے ذریعے ایڈز کی روک تھام کے لیے رقم فراہم کی جائے گی جن کا تعلق مذہب سے ہوگا۔

واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دنیا بھر میں صحت کے لیے کام کرنے والے افراد کی کوششوں کو سراہا اور بالخصوص صحرائے اعظم کے زیریں علاقوں میں کام کرنے والوں کی تعریف کی جہاں ایڈز کا مرض سب سے زیادہ ہے۔

برطانیہ نے ایڈز روکنے کے پروگراموں میں سینتالیس ملین ڈالر دینے کا عہد کیا ہے۔