http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 28 November, 2005, 08:48 GMT 13:48 PST

صدام عدالت میں گرجتے رہے

معزول عراقی صدر صدام حسین اور ان کے سات مشیروں کے خلاف مقدمہ کی سماعت پانچ دسمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

پیر کو سماعت کے چھ ہفتے بعد دوبارہ آغاز پر صدام حسین نے جارحانہ رویہ اختیار کیا۔

انہوں نے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج سے خود سے روا رکھنے جانے والے سلوک کی شکایت کی اور کہا کہ انہیں کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے ایک قلم تک فراہم نہیں کیا گیا۔

صدام حسین اور ان کے ساتھیوں نے عدالت میں اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی۔ پیر کو سماعت کے آغاز پر عدالت نے اس مقدمے کے پہلے گواہ کا ویڈیو بیان سنا۔یہ گواہ کچھ عرصہ قبل مارا جا چکا ہے۔

عدالت نے وکلائے صفائی کو چھ ہفتے کا وقت مقدمے کی تیاری کے لیے دیا تھا تاہم وکلائے صفائی کی ٹیم میں سے چار وکلاء عدالت میں حاضر نہیں ہوئے۔

صدام کے ذاتی وکیل عدالت میں موجود تھے تاہم بقیہ وکلاء کی عدم موجودگی کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کے وکلاء نے اپنے دو ساتھیوں کے قتل کے بعد اس مقدمے کے بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی۔ تاہم بعدازاں انہوں نے اپنی یہ دھمکی واپس لے لی تھی۔

سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک بھی صدام حسین کے وکلائے صفائی کی معاونت کے لیے عراق پہنچ چکے ہیں۔ رمزے کلارک صدام حسین کے خلاف مقدمہ چلانے کے مخالف ہیں ۔

صدام حسین کے مقدمے کے دوران سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقدمے کی پچھلی سماعت کے دوران عدالت کے دو کلرکوں نے صدام حسین کی جانب حضرت امام حسین کی شان میں مبینہ گستاخی کرنے پر عدالت میں پٹائی کر دی تھی۔

عراقی ٹی وی کے رپورٹ کے مطابق عدالت کے دو کلرکوں نے جابر حکمران کو کئی گھونسے مارے تھے۔

صدام حسین پر اپنے دور اقتدار میں شیعہ آبادی کے خلاف جرائم کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ صدام حسین کا مقدمے کے بارے میں موقف ہے کہ یہ غیر منصفانہ ہے اور ان کے وکیلوں کا مطالبہ رہا ہے کہ ان کا مقدمہ ہیگ کی عالمی عدالت میں چلایا جائے۔