Sunday, 27 November, 2005, 12:34 GMT 17:34 PST
برما میں سرکاری ذرائع کے مطابق ساٹھ سالہ جمہوریت پسند رہنما آنگ سوچی کی نظر بندی کی مدت میں بارہ ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حکام نے سوچی کے گھر جا کر ان کو نظر بندی کی مدت میں توسیع کا حکم نامہ سنایا۔ اس طرح کا حکم نامہ غیر متوقع نہیں تھا۔ گزشتہ سال بھی نومبر میں ان کی نظر بندی کی مدت کے خاتمے پر اسی طرح کا حکم جاری کیا گیا تھا۔
آنگ سوچی کی سیاسی جماعت کے ترجمان فوی طور پر اس خبر کی تصدیق نہیں کر سکے۔
آنگ سوچی کو انیس سو اکیانوے میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔ وہ مئی سن دو ہزار تین سے نظر بند ہیں۔
نظر بندی کے ضوابط کے تحت ان کو کسی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور وہ ٹیلی فون بھی استعمال نہیں کر سکتیں۔
آنگ سوچی نے حالیہ پندرہ میں سے دس سال حراست میں یا نظر بندی میں گزارے ہیں۔
ان کی جماعت نے ملک میں انیس سو نوے میں ہونے والے انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی تھی لیکن ملک کی فوجی حکومت نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔