Tuesday, 22 November, 2005, 13:57 GMT 18:57 PST
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو کی یادداشت سے انکشاف ہوا ہے کہ ایک مرحلے پر صدر بش عرب ٹی وی چینل الجزیرہ پر بمباری چاہتے تھے۔
اس کا انکشاف روزنامہ مرر نے پانچ صفحات پر مشتمل ایک گفتگو کی یادداشت کے حوالے سے کیا ہے۔
ایک سابق برطانوی وزیرِ دفاع کل فوایلی کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس خفیہ میمو کو شائع کرے جس میں مبینہ طور پر وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے گزشتہ برس صدر بش پر زور دیا کہ امریکہ، قطر میں واقع الجزیرہ کے صدر دفتر پر بمباری نہ کرے۔ مسٹر بلیئر کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے دنیا بھر میں شدید ردِ عمل پیدا ہوگا۔
برطانیہ میں لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے بھی اس خفیہ میمو کو شائع کرنے کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ تاہم ٹونی بلیئر کے دفتر نے روزنامہ مرر کے الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
مرر کی خبر کے مطابق یہ گفتگو صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے درمیان برطانوی وزیرِاعظم کے دورۂ امریکہ کے دوران ہوئی تھی۔
مرر نے اس یادداشت کا متن فراہم کرنے والے ذرائع کا انکشاف نہیں کیا تاہم یہ کہا ہے کہ یہ گفتگو 16 اپریل 2004 کو واشنگٹن میں ہوئی۔
خبر کے مطابق صدر بش نے برطانوی وزیراعظم کو بتایا کہ وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سیٹلائٹ کے نشریاتی مرکز کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔
اخبار کے مطابق ’وزیراعظم بلیئر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ خلیج میں ایک اہم اتحادی ملک کے دارالحکومت پر حملے کا نتیجے میں انتقامی حملوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے‘۔
مرر کے مطابق برطانوی سول سروس کے ایک رکن کو مبینہ طور پر اس خفیہ یادداشت کو منکشف کرنے کا مرتکب تصور کیا جا رہا ہے۔
کیبنٹ آفس کے ایک اعلی سول اہلکار ڈیوڈ کیو نے یہ یادداشت لیو او کونر کو فراہم کی تھی۔ کونر سابق برطانوی قانون ساز ٹونی کلارک کے لیے کام کرتے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ کیو اور کونر آئندہ ہفتے لندن کی ایک عدالت میں پیش ہونے والے ہیں۔
مرر کے مطابق کلارک نے یہ یادداشت برطانوی وزیراعظم کے دفتر کو واپس کر دی تھی۔ تاہم کلارک سے اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
مرر نے ایک برطانوی اہلکار کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ ’صدر بش نے یہ بات سنجیدگی سے نہیں، از راہِ مذاق کہی تھی‘۔