Sunday, 20 November, 2005, 21:44 GMT 02:44 PST
ایران کی پارلیمنٹ نے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجا جائے تو حکومت آئی اے ای اے کو جوہری تنصیبات کا ’مخِتصر نوٹس‘ پر معائنہ کرانے سے انکار کر دے۔
ایران کہ پارلیمنٹ کے 197 ارکین میں سے 187 نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا۔پارلیمنٹ کی یہ قرارداد اب گارڈین کونسل کے پاس جائے گی جو بارہ علماء پر مشتمل ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق گارڈین کونسل یا مجلس بزرگان سے قرارداد کی منظوری منگل کو متوقع ہے۔
پارلیمنٹ میں قرار داد پر ووٹنگ کی کارروائی سرکاری میڈیا پر براہ راست نشر کی گئی۔
نامہ نگاروں کے مطابق قرار داد میں ایرانی مذاکرات کار علی لاریجانی کی طرف سے دی جانی والی اُس دھمکی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجا گیا تو ردِ عمل بھی ’باغیانہ‘ ہو گا۔
ایرانی پارلیمان کی قرارداد ان سفارتی بیانات کو آئین سازی کے میدان میں لے آئی ہے جس کی پیروی کرنا حکومت کے لیے لازمی ہوگا۔
اقوام متحدہ کے جوہری ادارہ آئی اے ای اے کا اجلاس جمعرات کو ویانا میں ہو رہا ہے جس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کو بھیجنے کے بارے میں فیصلہ ہو گا۔ سلامتی کونسل ایران کے خلاف معاشی پابندیاں بھی عائد کر سکتی ہے۔
ایران کا اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے جب کہ امریکہ مسلسل یہ الزام لگا رہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔