http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 19 November, 2005, 22:48 GMT 03:48 PST

امریکی فوجیوں سمیت 53 ہلاک

عراق میں پولیس کا کہنا ہے کہ بغداد کے شمال میں واقع شہر بعقوبہ میں اہل تشیع کے جنازے کے ایک جلوس پر کیے جانے والے خودکش حملے میں کم سے کم پینتیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ سنیچر کے روز عراق میں اس طرح کے تین کار بم دھماکے ہوئے جن میں میں ترپن افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق بعقوبہ میں خودکش حملہ آور ایک کار بم اس ٹینٹ میں لاٹکرایا جہاں اہل تشیع کا ہجوم نماز جنازہ کے لیے جمع ہوا تھا۔ اس حملے میں پینتیس افراد ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل تیرہ افراد اس وقت ہلاک ہوگئے جب ایک خودکش حملہ آور نے جنوبی بغداد کے ایک شیعہ ڈِسٹرکٹ میں واقع مارکیٹ میں کار بم سے حملہ کردیا۔ اس حملے میں کم سے کم بیس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے پانچ فوجی بغداد سے دو سو پچاس کلومیٹر شمال میں ایک بم حملے میں ہلاک ہوئے۔

اس واقعے کے فوری بعد دو پولیس والے اور دو شہری اس وقت زخمی ہوگئے جب ایک خودکش بمبار کار بم کے ذریعے گشتی پولیس کی گاڑی سے جاٹکرایا۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم موئیر کا کہنا ہے کہ پندرہ دسمبر کے انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں خوش حملوں میں اضافے کا رجحان ہے۔ جمعہ کے روز بھی ہونے والے کئی خودکش حملوں میں کم سے کم اسی افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئےتھے۔

اپنی شناخت نہ بتانے کی شرط پر عراقی پولیس کے ذرائع نے خبررساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ جمعہ کے روز ہونے والے خود کش حملوں کے سلسلے میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جمعہ کے روز خانقین میں حملے کی وارننگ ملی تھی لیکن پولیس والے وقت پر وہاں نہیں پہنچ سکے۔

دریں اثناء عراق کی مختلف برادریوں کے رہنما اور سیاسی جماعتوں کے نمائندے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عراق کے مستقبل پر ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے جمع ہورہے ہیں۔ یہ کانفرنس عرب لیگ کی جانب سے منعقد کیا جارہا ہے اور اس میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہوں گے۔