http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 18 November, 2005, 21:27 GMT 02:27 PST

خود کش حملوں میں درجنوں ہلاک

عراق میں جمعہ کے روز سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں کم از کم اسّی لوگ ہلاک اور تقریباً سو لوگ زخمی ہوئے۔

سے سے زیادہ لوگ ان دو دھماکوں میں مارے گئے جو عراق کے شمال مشرق میں خانقین میں واقع اہلِ تشیع کی دو مساجد میں ہوئے۔ خانقین میں کرد اور شیعہ رہتے ہیں اور یہ جگہ ایرانی سرحد کے قریب ہے۔

حملے کی وڈیو دیکھنے کے لیے کلک کریں

بغداد حملے کی تصاویر
اس سے قبل کار بم کے دو دھماکے ہوئے تھے جن میں چھ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکے بغداد میں وزارتِ داخلہ کی عمارت کے باہر ہوئے جو اس وقت خفیہ جیلوں میں قیدیوں پر مبینہ تشدد کے حوالے سے بدنام ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ نشانہ قریب ہی واقع ایک ہوٹل ہو جہاں غیرملکی صحافی قیام کرتے ہیں۔

دیالہ کی صوبائی کونسل کے رہنما ابراہیم حسن البجلان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’دو افراد جنہوں نے اپنے جسموں سے دھماکہ خیز مواد باندھ رکھا تھا خانقین کی بڑی اور چھوٹی مسجد میں داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘

بجلان کا کہنا تھا کہ دھماکوں سے دونوں مسجدیں بری طرح تباہ ہوگئی ہیں اور خدشہ ہے کہ ملبے کے نیچے لوگ دبے ہوئے ہیں۔

اے ایف پی کے اس واقعہ کے بعد سیکورٹی افواج متاثرہ علاقے میں پہنچ گئیں اور وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔