Friday, 18 November, 2005, 10:19 GMT 15:19 PST
ایک امریکی فوجی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ عراق میں اس وقت تین ہزار کے قریب غیرملکی شدت پسند موجود ہیں تاہم یہ تعداد باغیوں کی کل تعداد کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے سابق ملازم انتھونی کارڈسمین کا کہنا ہے کہ غیرملکی شدت پسندوں میں زیادہ تعداد الجزائر، شام اور یمن سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔
انتھونی کارڈسمین نے غیر ملکی شدت پسندوں کی تعداد کے بارے میں اپنا اندازہ سعودی عرب اور مشرقِ وسطٰی کے دیگر ممالک سے حاصل کردہ معلومات پر لگایا ہے۔
ان کی جانب سے بتائی گئی غیر ملکی شدت پسندوں کی تعداد امریکہ محکمۂ دفاع کی جانب سے غیر سرکاری طور پر لگائے جانے والے اندازوں سے تین گنا زیادہ ہے۔
مسٹر کارڈسمین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شدت پسند باغیوں کی کل تعداد کا صرف دس فیصد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عراقی مزاحمت کاروں میں سے نوے فیصد کا تعلق مقامی آبادی سے ہے۔
انتھونی کارڈسمین نے واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک کو پیش کی جانی والی رپورٹ میں کہا ہے کہ’ اگر عراق میں تین زار شدت پسند موجود ہیں تو یہ ایک بڑا خطرہ ہے۔ کسی بھی صورتحال میں بالکل صحیح تعداد معلوم کرنا غیرضروری ہے بات صرف یہ ہے کہ ان کے پاس خودکش حملے اور دھماکے کرنے کے لیے رضاکار موجود ہیں‘۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیادہ تر غیر ملکی شدت پسند شام کی سرحد سے عراق میں داخل ہوئے ہیں جبکہ کچھ شدت سپند سعودی عرب سے بھی آئےہیں تاہم اب سخت حفاطتی انتظامات کی وجہ سے سعودی عرب سے شدت پسندوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
سعودی سکیورٹی سروسز کا کہنا ہے کہ اگست سنہ 2005 کے بعد سے اب تک 352 سعودی افراد سرحد عبور کر کے عراق میں داخل ہوئے۔ سعودی خفیہ اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ تر سعودی شدت پسندوں کی عمر سترہ سے پچیس برس کے درمیان ہے۔
مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں میں سوڈانی اور مصری باشندے بھی شامل ہیں تاہم نومبر 2005 تک گرفتار کیے جانے والے تیرہ ہزار نو سو افراد میں سے صرف چار سو افراد غیر ملکی ہیں۔