Thursday, 17 November, 2005, 07:33 GMT 12:33 PST
امریکی صدر جارج بش اور جنوبی کوریا کے سربراہ روہ موہیون نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح شمالی کوریا انہیں قبول نہیں ہوگا۔ تاہم دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے کہا کہ شمالی کوریا کے ایٹمی تنازعے کا حل سفارتی اور پرامن طریقے سے کرلیا جائے گا۔
جارج بش اور جنوبی کوریا کے صدر کوریا کے تاریخی شہر گئنگجو میں شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام اور دیگر معاملات پر مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ایک امن معاہدے پر دستخط کے لئے مذاکرات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدہ اور ایٹمی تنازعہ پر مذاکرات ایک دوسرے کی کمی کو پورا کریں گے۔
امریکی صدر مشرقی ایشیا کے آٹھ روزہ دورے پر ہیں۔ جاپان میں ایک خطاب کے دوران انہوں نے چین اور دیگر ایشیائی ممالک میں جمہوریت کی ضرورت پر زور دیا۔ جارج بش چین اور منگولیا بھی جانے والے ہیں۔جنوبی کوریا میں ’بش کو روکو‘ کی تختی لیے ہوئے لگ بھگ ڈھائی سو مظاہرین گئنگجو کے ریلوے سٹیشن پر احتجاجی طور پر موجود تھے۔
اس سے پہلے ہی جارج بش نے شمالی کوریا کو مظالم، پسماندگی اور بیابان کا آؤٹ پوسٹ قرار دیا ہے۔ انیس سو پچاس – ترپن کی جنگ کسی معاہدے سے نہیں ختم ہوا تھا جس کی وجہ سے شمالی اور جنوبی کوریا اب بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔
جارج بش جنوبی کوریا میں ہونے والے ایشیا پیسیفِک ممالک کے اقتصادی گروپ (اپیک) کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں جہاں وہ جاپان، چین اور روس اور دیگر ان تین ممالک کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کریں گے جو شمالی کوریا کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں شامل ہیں۔
جارج بش نے جنوبی کوریا کے صدر سے عراق کے معاملے پر بھی بات چیت کی ہے۔ ایشیائی ممالک میں جاپان اور چین نے اپنی افواج عراق میں تعینات کی ہے۔