Wednesday, 16 November, 2005, 00:46 GMT 05:46 PST
امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ’امریکی عوام چاہتے ہیں کہ ہماری فوج واپس آجائے لیکن میرے خیال میں وہ کام ادھورا چھوڑنے کے حق میں نہیں ہیں‘۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’جیسا کے صدر کہہ چکے ہیں کوئی ڈیڈلائن مقرر نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس سے مزاحمت کاروں کو تقویت ملے گی‘۔
وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا کہ مزاحمت کاروں میں یہ امید پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ اگر وہ طویل عرصے تک مزاحمت کرتے رہیں تو کامیاب ہوسکتے ہیں۔
وہ امریکی سینیٹ میں عراق سے امریکی افواج کی واپسی کے ٹائم ٹیبل کے اعلان کی تجویز مسترد ہونے کے بعد تجویز مسترد ہونے پر تبصرہ کر ہے تھے۔ تجویز ڈیموکریٹک پارٹی نے پیش کی تھی۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’عراق میں اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں بےگناہ لوگ، مائیں، باپ ا ور بچے مارے گئے ہیں۔ ان کے بقول فسطائی نظریہ رکھنے والے ان لوگوں کے ہاتھوں جو عراق کو ایک ایسی محفوظ پناہ گاہ بنانا چاہتے ہیں جو انہیں کبھی افغانستان میں حاصل تھی۔
سینیٹ نے منگل کو ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت بش انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ عراق سے انخلا کا منصوبہ وضع کرے اور یہ کہ عراقی افواج کو اگلے سال سے سکیورٹی کی ذمہ داری خود سنبھالنے کی تیاری کرنی چاہیے۔
سینٹ نے یہ بھی کہا کہ اسے عراق کے حالات کی رپورٹیں باقاعدگی سے پیش کی جائیں۔
سینیٹ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ امریکی افواج کی عراق سے واپسی کے لیے ایک ٹائم ٹیبل کا اعلان کیا جائے۔