Wednesday, 16 November, 2005, 18:45 GMT 23:45 PST
افعانستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے نیٹ ورک نے افغانستان میں اپنی کاروائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔
افغان حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں اور نیٹو کے زیرِانتظام فوج پر حملوں کے لئے القاعدہ ملک میں ہتھیار، دھماکہ خیز مواد اور سرمایہ فراہم کررہی ہے۔
افغانستان کے وزیر دفاع رحیم وردک نے کہا ہے کہ عرب اور دیگر غیر ملکی دہشت گرد ملک میں خودکش حملے کرنے کے لئے داخل ہوچکے ہیں۔ مسٹر وردک نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ عراق اور افغانستان میں ہونے والے حملوں میں خاصی مماثلت پائی جاتی ہے۔
آج ہی قندہار کے صوبے میں ایک امریکی فوجی قافلے پر کئے جانے والے خودکش حملے میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔ منگل کے روز پکتیہ صوبے میں ایک بم حملے میں پانچ افغان فوجی ہلاک ہوئے تھے جبکہ پیر کے روز دارالحکومت کابل میں ایک جرمن فوجی سمیت نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قندھار میں ہونے والے بم حملے کے بارے میں وہاں کے گورنر کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے اپنی گاڑی امریکی اور افغان فوج کے قافلے سے ٹکرا دی۔
امریکی فوجی ترجمان لیفٹینٹ کرنل جیری او ہارا نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجی قافلے پر حملہ ہوا ہے مگر انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ اس حملے میں تین امریکی فوجی زخمی ہوئے۔
ایک عینی شاہد غلام محمد حق کا کہنا ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک کار امریکی قافلے سے جا ٹکرائی اور اس کے بعد دھماکے سے پھٹ گئی۔
طالبان کا کہنا ہےکہ انہوں نے اس ہفتے دوشہروں میں دھماکے کیے۔