Monday, 14 November, 2005, 23:42 GMT 04:42 PST
فرانس کے صدر شیراک اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ احتجاج کو شہروں میں پھوٹنے سے روکنے کے لیے نوجوانوں کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
تشدد شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی جانے والی پہلی تفصیلی تقریر میں صدر شیراک نے ’معنی کے بحران، ایک شناحت کا بحران‘ کی بات کی ہے۔
انہوں نے نسل پرستی کی ’زہر‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور اعلان کیا کہ 2007 تک 50 ہزار نوجوانوں تربیت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
صدر شیراک نے کہا کہ وہ امن و امان کو ترجیح دیں گے اور جن لوگوں نے ہنگامہ آرائی کی ہے انہیں قانون کے سامنے لائیں گے اور غیر قانونی نقلِ مکانی کا خاتمے کر کے رہیں گے۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ وزیراعظم ڈومینک ڈی ویلیپاں سے کہیں گے کہ وہ پارلیمنٹ سے کہیں کہ ہنگامی قوانین کے نفاذ اور ملک کے کسی بھی شہر میں کرفیو لگانے کے قوانین میں توسیع کی منظوری دی جائے۔
ایلسی پیلس میں یوپی یونین اور فرانس کے پرچموں کے پہلو میں کھڑے ہو کی خطاب کرتے ہویے صدر شیراک نے نے کہا کہ تشدد کی لہر نے فرانسیسی معاشرے میں پائے جانے والے گہرے ہیجان کو اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے کہا’امتیازی سلوک سے ہم سب آگاہ ہیں‘ اور اس کے ساتھ ہی امریکی انداز کا کوٹہ سسٹم اپنانے کو مسترد کرتے صدر نے کہا کہ نوجوانوں کو مساوی مواقع حاصل ہونے چاہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’کتنی ہی درخواستیں ہوتی ہیں جنہیں صرف درخواس گزاروں کے ناموں اور پتوں کی وجہ سے ردی کی ٹوکریوں کی نذر کر دیا جاتا ہے‘۔
![]() | |
| ’جو بھی ہماری قومی برادری سے تعلق رکھتا ہے اسے لازماً قانون کا احترام کرنا چاہیے‘۔ شیراک |
صدر شیراک نے کہا ’مشکلات بہت سے فرانسیسیوں کو پیش آتی ہیں لیکن تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ جو بھی ہماری قومی برادری سے تعلق رکھتا ہے اسے لازماً قانون کا احترام کرنا چاہیے‘۔