Monday, 14 November, 2005, 19:30 GMT 00:30 PST
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دو کار بم دھماکوں میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ خودکش دھماکے تھے۔
پیر کو ہونے والے یہ دھماکے کابل کو جلال آباد سے ملانے والی سڑک پر ہوئے۔ ایک افغان افسر جنرل محبوب امیری کا کہنا تھا کہ دونوں دھماکے خودکش حملے تھے‘۔
پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق شام تین بجے ہوا اور اس میں نیٹو کی امن فوج کے ایک جرمن رکن سمیت دو افغانی بھی مارے گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ مرنے والوں میں خودکش حملہ آور بھی شامل ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور نے اپنی ٹویوٹا کرولا کار کابل کی طرف جانے والی سڑک پر’انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس‘ کی گاڑی سے ٹکرا دی۔
اس دھماکے کے ایک گھنٹے بعد اسی سڑک پر ایک اور دھماکہ ہوا جس میں یونانی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ نیٹو کا کہنا ہے اس کے فوجیوں نے تیسرے دھماکے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
ایک شخص نے جو کہ اپنے آپ کو طالبان کا ترجمان ظاہر کرتا تھا کہا ہے کہ طالبان نے ہی پیر کو ہونے والے حملے کیے ہیں۔ طالبان نے ستمبر میں کابل میں ہونے والے خودکش دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ اگرچہ عراق کے مقابلے میں افغانستان میں خود کش دھماکے عام نہیں تاہم ان دھماکوں نے اعلٰی حکام میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔