Sunday, 13 November, 2005, 11:53 GMT 16:53 PST
سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے تل ابیب میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ان کوششوں کی قدر کریں جو اسحاق رابین نے خطے میں امن کے لیے کیں۔
ہزار ہا افراد نے اتوار کو تل ابیب میں سابق اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابین کی دسویں برسی کے سلسلے میں ایک ریلی میں حصہ لیا۔ یہ ریلی اسی جگہ منعقد کی گئی ہے جہاں یٹزک رابن کو ہلاک کیا گیا تھا۔
رابین کو جنہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ اوسلو امن معاہدہ کیا تھا چار نومبر 1995 کو ایک شدت پسند اسرائیلی نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
عبرانی کیلینڈر کی روایات کے مطابق اسرائیلی حکومت نے بھی اسحاق رابین کی برسی منانے کا اہتمام کیا ہے۔
بل کلنٹن نے جنہوں نے اوسلوامن معاہدے کے لیے اسحاق رابین کے ساتھ مل کر کام کیا تھا مزید کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں ایسا کوئی ہفتہ نہیں گزرا جب انہیں رابین کی یاد نہ آئی ہو۔
انہوں نے اس بات کی تعریف کہ رابین ’ایک سپاہی سے امن کے داعی بنے‘ تاہم بل کلنٹن نے کہا کہ اسحاق رابین کا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا اور یہ کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان اختلافات کوختم کرنے کا واحد باعزت راستہ امن کا قیام ہے۔
ریلی سے خطاب کرنے والے دوسرے اہم رہنما اسرائیل کے نائب وزیر اعظم شمعون پیریز تھے۔
رابین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے جوان نسل اسرائیلیوں پر زور دیا کہ وہ ’ سیاست میں حصہ لیں اور امن کے بوجھ کو اٹھانے میں اسرائیلی ریاست کا ہاتھ بٹائیں۔‘
ریلی کے پرامن انعقاد کے لیے ڈیڑھ ہزار سیکورٹی اہلکاروں کو مرکزی تل ابیب میں تعینات کیا گیا ہے جن میں دوسرے اہلکاروں کے علاوہ بم سکواڈ کے ماہرین بھی شامل ہیں۔