http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 11 November, 2005, 22:20 GMT 03:20 PST

صدام کے قریبی ساتھی انتقال کرگئے

عراق کی سابق حکمران جماعت بعث پارٹی نے کہا ہے کہ سابق صدر صدام حسین کے قریبی ترین ساتھی عزت ابراہیم الدوری انتقال کرگئے ہیں۔

پارٹی کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق ’مزاحمتی تحریک کے رہنما کا انتقال گیارہ نومبر کو ہوا۔‘ اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

مسٹر الدوری ، جن کی عمر تریسٹھ برس تھی، صدام حکومت کے سب سے سینئیر رہنما تھے اور ابھی تک نہیں پکڑے گئے تھے۔ امریکہ نے ان کی گرفتاری کے لئے معلومات فراہم کرنے والے کے لئے ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

حالیہ برسوں پر ان پر عراق میں مزاحمت کاروں کو فنانس کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔

عزت ابراہیم امریکہ کو مطلوب پچپن افراد میں سے چھٹے نمبر پر تھے جبکہ پہلے پانچ گرفتار کئے جاچکے ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مسٹر الدوری کا انتقال کس وجہ سے ہوا لیکن عراقی حکام خبر کی تصدیق کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہیں کئی برسوں پہلے خون کا کینسر تشخیص کیا گیا تھا لیکن وہ علاج کے بعد اندرونی اور غیر ملکی ذمہ داریاں سنبھالنے میں کامیاب رہے تھے۔ وہ اکثر بین الاقوامی سطح پر عراق کی نمائندگی کرتے تھے اور خاص طور پر 2003 میں عراق پر جنگ سے پہلے خاصے سرگرم تھے۔

کافی عرصے سے ایسے اطلاعات بھی آرہی تھیں کہ وہ جنگ کے بعد زیر زمین جانے کے بعد سے بیمار تھے۔

عزت ابراہیم ، جو صدام حسین کے شہر تکرک میں پیدا ہوئے تھے ، سابق صدر کا دایاں ہاتھ تصور کئے جاتے اور فوج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف تھے۔