Thursday, 10 November, 2005, 08:28 GMT 13:28 PST
عمان کے تین ہوٹلوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں چھپن افراد کی ہلاکت کے بعد اردن کی حکومت نے ملک کی سرحدوں کو بندکردیا ہے اور ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
جن ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا وہاں عام طور پر مغربی سیاح اور سفارت کار ٹھہرتے ہیں لیکن ہلاک ہونے والوں میں بیشتر اردنی شہری بتائے گئےہیں۔
تین ہوٹل، گرینڈ ہایٹ، ریڈیسن اور ڈیز اِن امریکی ملکیت میں ہیں۔ ریڈیسن میں جب دھماکہ ہوا اس وقت سینکڑوں افراد شادی کی ایک تقریب میں شریک تھے۔ دلہا اور دلہن کے والد اس دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔ دلہا اشرف محمد نے بتایا: ’شادی کی شب میرے والد اور میرے سسر مجھ سے بچھڑ گئے۔‘
اشرف محمد نے مزید کہا: ’دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان دھماکوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
اردن کے شاہ عبداللہ دھماکوں کی اطلاع ملتے ہی قازقستان کا اپنا دورہ چھوڑ کر واپس آگئے۔ شاہ عبداللہ نے کہا کہ دھماکوں کے لئے ایک ’گمراہ‘ گروہ ذمہ دار ہے۔ اردن کے نائب وزیراعظم ماروان معاشر نے عراق میں سرگرم اردنی نژاد القاعدہ رہنما ابو مصعب الزرقاوی کو ان حملوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
عمان میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی وجہ سے اسلامی شدت پسند گروہ اردن کی حکومت سے نفرت کرتے ہیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی ہایٹ ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں جہاں ان کے مطابق ہوٹل کی لابی میں واقع ایک بار میں دھماکہ ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ ہوٹل کی کھڑکیوں کے شیشے چکناچور ہوگئے اور کئی افراد سنگین حالت میں زخمی تھے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اردن کا اپنا دورہ معطل کردیا ہے۔ صدر جارج بش کے ترجمان نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ’دہشت گردی کا ایک گھنونا فعل‘ قرار دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں اردن امریکہ کا ایک اتحادی ملک ہے جس کی وجہ سے اسے اسلامی شدت پسند اپنے نشانے پر سمجھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں عمان مغربی باشندوں کے لئے ایک اڈہ بن گیا ہے جس کے ذریعے وہ عراق آتے جاتے ہیں۔