Thursday, 10 November, 2005, 09:00 GMT 14:00 PST
عراقی دارالحکومت بغداد میں پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے مرکز میں واقع ایک ریستوراں میں ہونے والے خودکش حملے میں تیس افراد ہلاک اور لگ بھگ بیس زخمی ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق جمعرات کی صبح ریستوراں میں جب لوگ ناشتہ کررہے تھے اس وقت ایک خود کش بمبار داخل ہوا اور اس نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ ریستوراں مقامی سیکورٹی گارڈز اور پولیس افسران کے لئے مقبول ہے۔
دھماکے کی آوازیں پورے شہر میں سنی گئیں اور ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دارالحکومت بغداد میں یہ سب سے بڑا دھماکہ ہے۔
یہ دھماکہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب پندرہ دسمبر کے پارلیمانی انتخابات کی تیاریاں پورے ملک میں ہورہی ہیں۔ امریکی حکام نے وارننگ دی ہے کہ عام انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
بدھ کے روز شمال مشرقی بغداد کے ایک شیعہ ضلع میں کار بم کے دو حملوں میں کم سے کم چھ افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہوگئے تھے۔ بدھ کے روز ہی بغداد کے قریبی شہر بعقوبہ میں ایک خود کش حملے میں پانچ پولیس والے ہلاک اور دیگر نو افراد زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ اور جمعرات کے یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکی اور عراقی افواج نے اعلان کیا ہے کہ شام کی سرحد کے قریب واقع شہر حسیبہ میں کئی دنوں جاری رہنے والی ان کی فوجی کارروائی کے بعد شہر پر ان کا کنٹرول ہوگیا ہے۔