Monday, 07 November, 2005, 22:40 GMT 03:40 PST
صدر جارج بش نے امریکی تحویل میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پوچھ گچھ کے دوران تشدد کا استعمال نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تشدد نہیں کرتے۔‘
پانامہ میں صدر مارٹن ٹوریہوس کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران صدر بش نے کہا کہ دشمنوں کے خلاف امریکہ کی جنگ جاری ہے اور امریکی عوام کا دفاع ان کی پہلی ترجیح ہےتاہم قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا جائےگا۔
امریکی سینیٹ تشدد کے خلاف قانون منظور کر چکی ہے لیکن بش حکومت کی کوشش ہے کہ سی آئی اے کو اس قانون سے مستثنی کیا جائے۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق سی آئی اے نے مشرقی یورپ اور ایشیا میں قیدیوں کو خفیہ جیلوں میں بند رکھا ہوا تھا۔ یہ جیلیں اب ختم کر دی گئی ہیں۔ ہر جیل میں تقریباّ 30 قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے اب تک اس خبر کو تردید نہیں کیا۔
اتوار کو تشدد کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے یورپی حکومتوں پر زور دیا کہ ان الزامات پر تحقیقات کی جائیں۔
علاوہ ازیں امریکی سپریم کورٹ نے بش حکومت کی غیر ملکی قیدیوں کے خلاف خصوصی عدالتوں میں مقدمہ چلانےکی پالیسی پر قانونی کارروائی کر نے کی اجازت دے دی ہے۔
کورٹ جون تک فیصلہ کرے گی کہ اسامہ بن لادن کے سابق ڈرائیور کے خلاف جنگی جرائم کے الزام میں گوانتانامو بے کی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
یمن سے تعلق رکھنے والے سلیم احمد حمدان کا مقدمہ گزشتہ سال روک دیا گیا تھا جب جج نے کہا کہ پہلے یہ فیصلہ کیا جائے کہ حمدان جنیوا کنونشن کے تحت جنگی قیدی ہیں یا نہیں۔
حمدان کے وکلا نے درخواست کی تھی کہ انہں سول کورٹ میں لا یا جائے کیونکہ امریکہ کے اپنے قوانین کے تحت فوجی عدالتیں غیر قانونی ہیں۔
حمدان افغانستان میں اسامہ بن لادن کیلۓ 1997 سے لےکر 2001 تک کام کرتے رہے اور انہوں نے دعوی کیا ہے کہ وہ القاعدہ کے رکن نہیں ہیں۔