Monday, 07 November, 2005, 16:03 GMT 21:03 PST
فرانس میں اتوار کی رات بھی تشدد جاری رہا اور تشدد شدید ہونے کے بعد پیرس کے ایک نواحی علاقے کے میئر نے پیر کی رات سے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ اب تک جلائی جانے والی گاڑیوں کی تعداد 1408 اور گرفتاروں کی تعداد 395 ہو چکی ہے۔
جاری تشدد کی گیارہویں رات پیرس کے نواحی علاقے گغینی میں دس پولیس والے دو سو فسادیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے گولیاں اور پتھر لگنے سے زخمی ہوئے۔ ان میں سے دو پولیس والے شدید زخمی بتائے جاتے ہیں۔
صدر ژاک شیراک نے اعلان کیا ہے کہ وہ امن کی بحالی کو اولین ترجیح دیں گے۔
اس کے علاوے ایک آدمی جو پٹائی کے باعث بے ہوش ہو گیا تھا چل بسا ہے اور اس تشدد میں غالباً یہ پہلی موت ہے۔
ژاں ژاک لشنادیک کی عمر اکسٹھ سال تھی اور انہیں ایک نقاب پوش نے اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا تھا جب وہ ایک ہمسائے کے ساتھ ستیں میں واقع اپنے اپارٹمنٹس کے باہر ہنگامہ آرائی کا جائزہ لینے جا رہے تھے۔
ان کی بیوہ سے وزیر داخلہ نے ملاقات کی ہے۔ افریقی اور عرب مسلمان رہنماؤں نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف فتوے جاری کیے ہیں۔
فرانس میں اسلامی یونینوں کے اتحاد یونین آف اسلامک آرگنائزیشن کی طرف سے جاری کیے جانے والے فتوے میں کہا گیا ہے کہ ’مسلمانوں کا ایسی کسی ہنگامہ آرائی میں شرکت انتہائی ممنوع ہے جس میں بلا وجہ جانے بوجھے بغیر کسی سرکاری یا نجی ملکیت کو نشانہ بنایا جائے یا جس کے نتیجے میں کسی اور زندگی کو کوئی خطرہ لاحق ہو‘۔
اتوار کی رات بھی سینکڑوں گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور پولیس نے متشدد گروہوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس چھوڑی۔
اتوار کی شب پیرس کے علاوہ آرلینز، رینے اور نانتے میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے۔ صرف سنیچر کی شب فسادیوں نے تیرہ سو گاڑیوں کو نذر آتش کردیا تھا اور تین سے زائد افراد کو گرفتار کرلیاگیا تھا۔
گزشتہ دس روز سے جاری ان ہنگاموں نے اب تک پیرس کے نواح میں واقع ڈیڑھ درجن سے زائد قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ ہنگامے اس وقت پھوٹ پڑے تھے جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے دو نوجوان پولیس سے بچنے کی کوشش میں بجلی کی تاروں میں پھنس کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔
مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ وہ دونوں نوجوان پولیس سے بچ کر بھاگ رہے تھے جبکہ حکام نے اس بات کی تردید کی ہے اور اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔