Sunday, 06 November, 2005, 14:02 GMT 19:02 PST
شام کی سرحد کے نزدیک حصبیہ کے علاقے میں امریکی اور عراقی فوج کو شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں شدید مزاحمت کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے اور امریکی فوج نے شہر کا محاصرہ کر لیا ہے۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ شام کی سرحد کے ساتھ ساتھ امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے افواج شہر میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ عراقی اور امریکی فوج کو وسیع پیمانے پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ القاعدہ کے شدت پسندوں نے فوجیوں پر چھوٹے ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد سے حملے کیے ہیں‘۔
جواباً امریکی فوج کی جانب سے نو ایسے مقامات پر حملے کیے ہیں جہاں سے شدت پسند فوج پر فائرنگ کر رہے تھے۔ تاہم اب تک کسی شہری یا فوجی کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
حصبیہ ایک سنّی اکثریتی علاقہ ہے اور اس کے کم از کم چار سو شہریوں نے ان جھڑپوں سے بچنے کے لیے شہر سے باہر ایک متروک عمارت میں پناہ لی ہوئی ہے۔
اس آپریشن میں 2500 امریکی جبکہ 1000 عراقی فوجی شریک ہیں۔ اس آپریشن میں عراقی سکاؤٹ بھی حصہ لے رہے ہیں جن کی ذمہ داری شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور سڑک کے کنارے نصب بموں کی نشاندہی کرنا ہے۔
بی بی سی کے نمائندے کے مطابق بغداد میں عراقی سنّی جماعتوں نے اس آپریشن کی مذمت کی ہے اور ان کہنا ہے کہ اس آپریشن کا نشانہ معصوم شہری ہی بنیں گے۔