Saturday, 05 November, 2005, 11:59 GMT 16:59 PST
پیرس اور گرد و نواح میں ہنگاموں کی نویں رات نو سو کے قریب گاڑیوں کے نذرِ آتش کیے جانے کے بعد فرانس کے وزیرِ داخلہ نے ہنگاموں کے ذمہ دار افراد کو متنبہ کیا ہے کہ انہیں کڑی سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔
ادھر پیرس اور دیگر فرانسیسی شہروں میں تشدد کے نئے واقعات کے بعد پولیس نے دو سو پچاس سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے تاہم پولیس کی بھاری تعداد میں موجودگی کے باوجود تارکین وطن کے حوالے سے جانے جانے والے علاقوں میں توڑ پھوڑ مسلسل جاری ہے۔
تشدد شمالی فرانس کے غاؤین، جنوب کے شہر مارسے اور مشرق کے شہر جیوں اور تولوز اور نیس میں بھی پھیل گیا ہے۔ نو دنوں سے جاری یہ تشدد غیرفرانسیسی نسل کے غریب نوجوان تارکین وطن والی آبادیوں میں ہے۔
اطلاعات کے مطابق تشدد کی زد میں آنے والے ان علاقوں میں نرسریوں اور سکولوں کو بھی نذرِ آتش کیا گیا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں مسلمان اور عیسائی مذہبی رہنما مارچ کرنے والے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ ان علاقوں میں جہاں دو اموات کے بعد بے چینی اور تشدد کا آغاز ہوا تھا کہ ان کے اجتماعی مارچ سے کشیدگی میں کمی آئے گی۔
یہ ہنگامے اس وقت پھوٹ پڑے تھے جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے دو پندرہ اور سترہ سالہ نوجوان باؤنا تراؤرے اور زید بنا پولیس سے بچنے کی کوشش میں بجلی کی تاروں میں پھنس کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ دونوں نوجوان پولیس سے بچ کر بھاگ رہے تھے جبکہ حکام نے اس بات کی تردید کی ہے اور اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
جمعہ کی رات اگرچہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے پولیس سے براہِ راست تصادم سے گریز کیا لیکن حملوں اور آتشزنی کا واقعات کا سلسلہ جاری رہا۔
![]() | |
| اب تک نو سو گاڑیوں کو ندرِ آتش کیا گیا ہے |
جمعہ کے روز دارالحکومت پیرس میں تازہ تشدد کے واقعات پیش آئے اور سین دینی کا علاقہ بری طرح متاثر ہوا۔ لگ بھگ چالیس کاروں کو نذر آتش کردیا گیا اور پولیس کے مطابق کئی گوداموں کو بھی آگ لگادی گئی۔
پیرس کے علاقے سیں دینی میں پولیس کے تیرہ سو اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود مشتعل نوجوانوں کے گروہ سڑکوں پر گھومتے نظر آئے۔ قریب کے قصبے سلنچی سو بوا میں کچھ مسلم گروہوں نے تشدد کو روکنے کی کوششیں کی۔
تاہم کئی فرانسیسی باشندوں کا کہنا ہے کہ پولیس کے سختی نے تارکین وطن والی آبادیوں میں ناانصافی کا احساس اجاگر کردیا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ احساس اس لیے پیدا ہوا کیوں کہ پولیس والے سیاہ فام اور شمالی افریقی نژاد لوگوں کو روک کر تلاشی لے رہے ہیں۔