http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 04 November, 2005, 08:20 GMT 13:20 PST

فرانس میں ہنگاموں کا آٹھواں دن

پیرس کے مضافات میں ہونے والے ہنگامہ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں اور مسلسل آٹھویں رات بھی مظاہرین نےمتعدد دکانوں اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

گاڑیوں اور دکانوں پر زیادہ تر حملے اس مضافاتی علاقے میں ہوئے جہاں پر تارکین وطن افراد کی اکثریت ہے۔ اس علاقے میں تیرہ سو پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

پیرس میں ہنگامے

ایک ہفتے سے جاری ان ہنگاموں نے اب تک پیرس کے نواح میں واقع ایک درجن کے قریب قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ ہنگامے اس وقت پھوٹ پڑے تھے جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے دو نوجوان پولیس سے بچنے کی کوشش میں بجلی کی تاروں میں پھنس کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔

مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ وہ دونوں نوجوان پولیس سے بچ کر بھاگ رہے تھے جبکہ حکام نے اس بات کی تردید کی ہے اور اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

جمعرات کی رات ہنگاموں کا زور زیادہ تر پیرس کےشمال مشرقی اور شمال مغربی مضافاتی قصبوں میں رہا اور پہلی مرتبہ پیرس سے باہر کسی قصبے میں تشدد کی اطلاعات ملیں جب ڈیجون نامی قصبے کے مرکزی علاقے میں ایک کار کو آگ لگا دی گئی۔ ان علاقوں میں اس سے قبل بھی اینٹوں اور ڈنڈوں سے مسلح نوجوانوں کے گروہ گشت کرتے دیکھے گئے تھے۔
فرانسیسی وزیرِخارجہ کے بیانات سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں

اب تک ان فسادات میں کم از کم پچاس کاروں اور متعدد گوداموں کو آگ لگائی جا چکی ہے جبکہ ایک بس اور ایک سکول پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ فرانسیسی پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران ایک مسجد پر آنسو گیس کے شیل بھی پھینکے جس کی وجہ سے مظاہروں میں شدت آگئی تھی۔

فرانس کے وزیر داخلہ کی طرف سے مظاہرین کو ’ذلیلوں کا گروہ‘ کہہ کر پکارنے سے بھی حالات میں زیادہ خرابی پیدا ہوئی تھی۔ انہوں نے مرنے والےدونوں لڑکوں کے خاندان سے ملاقات کے بعد یہ بھی کہا تھا کہ یہ فسادات حادثاتی نہیں بلکہ ان کی باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

فرانسیسی وزیرِ اعظم نے جمعرات کو وزیرِ داخلہ ، دیگر وزراء اور متاثرہ قصبات کے میئروں سے بھی ملاقات کی۔ اس سے قبل وزیر اعظم ڈومینک ویلیپن نے بدھ کو کابینہ کی ہنگامی میٹنگ کے بعد پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران اپنے وزیر داخلہ کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ایسے بیانات دینے سے حالات قابو میں آنے کی بجائے خراب ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

فرانس یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی والا ملک ہے اور فرانس کے مسلمان رہنماؤں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ تارکینِ وطن آبادی کا احترام کرے۔