http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 04 November, 2005, 23:48 GMT 04:48 PST

بش اور آزاد تجارت کے خلاف مظاہرے

امریکی ملکوں کے چوتھے علاقائی اجلاس کے دوران سینکڑوں مظاہرین نے صدر جارج بش اور ان کی آزاد تجارت کی تجاویز کے خلاف پرتشدد مظاہرے کیے ہیں۔

مظاہرین نے دکانوں اور ایک بینک کو آگ لگادی اور امریکہ کے خلاف نعرے لگائے۔ جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔

امریکی صدر جارج بش دوسرے علاقائی رہنماؤں کے ساتھ آزاد تجارت کے منصوبے اور غربت کے موضوع پر بات چیت کے لئے اس اجلاس میں شریک ہیں۔ ارجنٹینا کے ساحلی شہر مار ڈل پلاتا میں چونتیس امریکی ممالک کے رہنما اس اجلاس میں شریک ہورہے ہیں۔

اجلاس کے دوران ونیزوئلا کے صدر ہیوگو چاویز نے کہا کہ وہ آزادانہ تجارت کے منصوبے کو ہمیشہ کے لئے دفن کردینے کی کوشش کریں گے۔ ہیوگو چاویز نے امریکہ مخلاف مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے سامراجی نظریہ کو فروغ دینا چاہتا ہے اور اس کا مقصد لاطینی امریکہ کے غریبوں کی زندگی کو بہتر بنانا نہیں ہے۔

لیکن امریکہ اور میکسیکو اس کوشش میں ہیں کہ آزادانہ تجارت کے علاقائی منصوبے پر بات چیت اگلے سال تک شروع ہوجائے۔ میکسیکو کے صدر ویسینٹے فاکس نے کہا ہے کہ علاقے کے چونتیس میں سے انتیس رہنما آزاد تجارت کے منصوبے پر بات چیت کا آغاز چاہتے ہیں۔

جمعہ کے روز جیسے ہی اس سربراہی اجلاس کا آغاز ہوا سینکڑوں مظاہرین نے سکیورٹی کے احاطے کو توڑنے کی کوشش کی اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ ونیزوئلا کے علاوہ برازیل، ارجنٹینا، اروگوے اور پاراگوے آزاد تجارت کے منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں۔

جنوبی امریکہ کے امور سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار اسٹیو کنگسٹن کا کہنا ہے کہ لاطینی امریکہ میں امریکہ کے لئے سکیورٹی، تجارت اور جمہوریت دلچسپی کا موضوع ہیں جبکہ ان تینوں معاملات پر ہیوگو چاویز امریکہ کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔