Wednesday, 02 November, 2005, 04:03 GMT 09:03 PST
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے نگرانوں کو گوانتانوموبے کے امریکی جیل کیمپ میں قیدیوں سے بات چیت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ رمز فیلڈ نے کہا کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو قیدیوں سے بات چیت کی اجازت دی جا چکی ہے اور وہ کسی اور کو یہ اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
امریکہ نے بغیر عدالتی کارروائی کے سنکڑوں قیدیوں کو گوانتانوموبے کی کیمپ جیل میں حراست میں رکھا ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے افسر نگران پاول ہنٹ نے کہا ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔
مسٹر رمزفیلڈ نے کہا قیدیوں کی بھوک ہڑتال کو میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔
حقوق انسانی کے نگرانوں نے قیدیوں سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے گوانتانو مو بے جیل کا دورہ کرنے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ چوبیس قیدیوں کو زبردستی کھانا کھلایا جاتاہے۔
اقوام متحدہ کی سہ رکنی کمیٹی کے ایک رکن لیلیٰ زرگوی سے جب پوچھا گیا کہ کیا گوانتانوموبے امریکہ کے دوہرے معیار کو نمایاں نہیں کرتا تو انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ امریکی موقف امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے اور ان کو امید ہے کہ امریکہ تعاون کرے گا۔