Tuesday, 01 November, 2005, 08:20 GMT 13:20 PST
شام نے ایک مرتبہ پھر اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ رفیق حریری کے قتل کی تفتیش کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم سے تعاون کرنے میں ناکام رہا ہے۔
شام کی طرف سے یہ انکار سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے بعد آیا ہے جس کے مطابق اگر شام تفتیش میں غیر مشروط تعاون نہیں کرتا تو اس کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
شام کے وزیر خارجہ کے مطابق سلامتی کونسل کی قرارداد اس مفروضے پر مبنی ہے کہ شام لبنان کے مرحوم صدر رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک انکوائری کے مطابق شام اور لبنان میں
شام نوا افسران رفیق حریری کے قتل ملوث ہیں لیکن شام کے وزیر خارجہ نے انکوائری ٹیم کے مرکزی تفتیش کار ڈیٹلِو مہلِس پر تنقید کی ہے کہ وہ شام پر یہ الزام بغیر کوئی ثبوت دیے لگا رہے ہیں۔
وزیر خارجہ فاروق الشرعا نے کہا کہ انکوائی ٹیم بغیر کوئی ثبوت پیش کیے یہ الزام لگا رہی ہے کہ شام کے سرکاری اہلکاروں نے تفتیش کاروں کے ساتھ جھوٹ بولا اور تفتیش کو خراب کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا ’کسی بھی شخص پر جس نے اس تفتیش کو شروع سے دیکھا ہے یہ واضح ہے کہ ٹیم کو شام کی طرف سے مکمل تعاون حاصل رہا ہے۔‘
سلامتی کونسل کی قراداد جس کو امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی حمایت حاصل ہے، کے مطابق شام کو پندرہ دسمبر تک قرارداد پر عمل کرنا ہے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شام ان افراد کو گرفتار کرے جنہیں تفتیشی ٹیم نے مشتبہ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سال فروری میں لبنانی صدر رفیق حریری کے کار دھماکے میں مارے جانے کے بعد شام کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اُسےلبنان سے اپنی فوجیں نکالنا پڑی تھیں۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے رفیق حریری کی ہلاکت کی تفتیش کا اعلان ہوا تھا۔
گزشتہ ہفتے تفتیشی ٹیم کے مرکزی تفتیش کار ڈیٹلِومہلِس نے کہا تھا کہ شامی سرکاری اہلکاروں نے جھوٹ بولا اور تفتیش کا رخ موڑنے کی کوشش کی۔