Sunday, 30 October, 2005, 19:36 GMT 00:36 PST
امریکی فوج کے مطابق دو امریکی فوجیوں پر جنوبی افغانستان کے ایک امریکی قید خانے میں افغان قیدیوں پر حملے کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔
ان فوجیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ان قیدیوں کے پیٹ ، شانوں اور سینے پر مکے مارے تھے۔
یہ فرد جرم ان الزامات کہ ایک ہفتے کہ بعد عائد کی گئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوجیوں نے طالبان جنگجوؤں کی لاشوں کو مکہ مکرمہ کے رخ لٹا کر بعد میں جلا دیا تھا جو کہ اسلام کی رو سے حرام ہے۔
امریکی فوج کے مطابق جن قیدیوں پر مبینہ طور پر تشدد ہوا ہے ان کو عارضی طور پر اوروزگان کی ایک امریکی بیس میں رکھا گیا تھا۔
فوج کے مطابق ان قیدیوں کو طبی امداد کی ضرورت نہیں۔
البتہ فوج کے جنرل جیک سٹرلنگ نے کہا کہ ’ فوجی قیادت کا عزم ہے کہ بے قاعدگیوں کہ تمام الزامات کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ دار افراد سے امریکی فوجی قوانین کے مطابق سلوک کیا جائے گا‘۔
فرد جرم میں بدسلوکی کی سازش، حملہ اور اپنی ذمہ داری سے لاپروائی کے الزامات شامل ہیں۔
ایک ہفتہ پہلے آسٹریلین ٹی وی چینل ایس بی ایس نےایک فلم دکھائی تھی جس میں امریکی فوجیوں کو طالبان جنگجوؤں کی لاشیں مکہ مکرمہ کے رخ لٹا کر انہیں بعد میں جلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
امریکی فوج نے فوراًًً اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ امریکی خارجہ سیکریٹری ڈونلڈ رمسفیلڈ نے کہا کہ اس واقعہ کے سچ ثابت ہونے کی صورت میں دنیا میں امریکہ کے امیج کو نقصان پہنچے گا۔
سن دو ہزار ایک سے لے کر اب تک امریکی فوج کی حراست میں کم از کم
آٹھ قیدیوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔
پچھلے مہینے ہی ایک امریکی فوجی کو ایک قیدی پر حملے کرنے کے الزام میں پانچ مہینے کے سزا سنائی گئی تھی۔ وہ قیدی بعد میں ہلاک ہو گیا تھا۔
اس کے علاوہ سن دو ہزار دو میں بھی مزید پانچ امریکی فوجیوں کو بگرام بیس میں دو قیدیوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔
انسانی حقوق کے اداروں نے کئی مواقع پر امریکی فوج پر افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے ہیں۔