Friday, 28 October, 2005, 11:50 GMT 16:50 PST
ایران نے اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کےصدر احمدی نژاد کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ملک کی خارجہ پالیسی یہی رہی ہے۔
تہران میں اسرائیل کے خلاف ہونے والی ایک احتجاجی ریلی ہونے سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متکی نے کہا ہے کہ ایران ’صہونیوں کی ناجائز حکومت‘ کو تسلیم نہیں کرتا۔
محمود احمدی نژاد کے بیان کی عالمی سطح پر زبردست مذمت ہوئی ہے لیکن اس بارے میں کسی اسلامی ملک کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
فلسطینیوں کے اعلی مذاکرات کار صائب ارکات نے ایرانی صدر کے بیان پر بی بی سی کو اپنے رد عمل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی اسرائیل کے زندہ رہنے کے حق کو تسلیم کرتے ہیں اور وہ ایرانی صدر کے بیان کو رد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں کے دنیا پر نقشے پر ابھرنے کی بات ہونی چاہیے نہ کہ اسرائیلی کے وجود کر ختم کرنے کی۔
اسرائیل نے اقوام متحدہ میں ایران رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ سلوان شیلوم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سلوان شیلوم نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر سفارتی کارروائی شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اسرائیل کے خلاف اس بیان پر ایران کے خلاف اقوام متحدہ نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے تاہم سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ایک غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے اس بیان پر ایران کی سخت مذمت کی ہے۔