http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 26 October, 2005, 12:14 GMT 17:14 PST

امریکی ہلاکتیں دو ہزار تک پہنچ گئیں

عراق میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد دو ہزار تک پہنچنے پر امریکہ کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور مرنے والوں کی یاد میں تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

واشنگٹن میں سینٹ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور دارالعوام میں مرنے والوں کے ناموں کی فہرست پڑھی گئی۔

صدر جارج بش نے امریکیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مزید ہلاکتوں کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی آنے والے وقت کی مشکلات کو کم نہیں سمجھنا چاہیئے۔

غیر سرکاری ذرائع کے مطابق جنگ شروع ہونے سے لے کر ابتک پچیس ہزار کے قریب عراقی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

چونتیس سالہ سٹاف سارجنٹ جارج الیگزینڈر جو کہ اس ماہ کے آغاز میں سمارہ شہر کے قریب ایک بم حملے میں زخمی ہو گئے تھے منگل کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جابحق ہو گئے۔ اس طرح وہ ہلاک ہونے والے دو ہزارویں فوجی بنے۔

جنگ مخالف مظاہرین نے کہا ہے کہ وہ پورے ملک میں جنگ کی یادگاروں اور وفاقی عمارتوں کے سامنے مظاہرے کریں گے۔

عراق میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجی کی ماں سنڈی شیہان مظاہرے کرنے والوں میں پیش پیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے سامنے سول حکم عدولی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کریں گی تاکہ انہیں گرفتار کر لیا جائے۔

انہوں نے جنگ مخالفین سے کہا کہ وہ جہاں بھی ممکن ہو احتجاج کریں۔ ’اپنے سینیٹروں کے دفاتر جائیں، وفاقی عمارتوں میں جائیں۔ دھرنا دیں اور کہیں کہ بس بہت ہو گئی۔ ہلاکتوں کو کبھی رکنا چاہیئے‘۔

عراق میں امریکہ کی سربراہی میں تعینات فوج کے ترجمان نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ 2000 ہلاکتوں کو زیادہ اہمیت نہ دیں۔

لیفٹیننٹ کرنل سٹیو بوئلن نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’یہ ایک غیر حقیقی حد ہے اور یہ ان لوگوں کی بنائی ہوئی ہے جن کے مخصوص ایجنڈے اور اپنے مفاد ہیں‘۔