Wednesday, 12 October, 2005, 13:34 GMT 18:34 PST
دمشق میں شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ غازی کنعان نے خودکشی کر لی ہے۔
خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ’وزیر داخلہ بریگیڈیر جنرل غازی کنان نے دو پہر سے کچھ دیر پہلے اپنے دفتر میں خودکشی کر لی۔‘ خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ حکام اس واقعہ کی تفتیش کر رہے ہیں۔
اس بیان میں انہوں نے کہا کہ ’میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے لبنانی بھائیوں کے ساتھ ہمارا رشتہ محبت اور باہمی احترام پر مبنی رہا ہے۔ ہم نے پورے خلوص و عزت کے ساتھ لبنان کے مفادات کے لیے کام کیا تھا۔‘
پچھلے ماہ اقوام متحدہ کے تفتیشکار نے وزیر داخلہ سے لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی تھی۔
حریری کا قتل
لبنانی وزیر اعظم کے قتل پر اقوام متحدہ کی رپورٹ اکتوبر کے آخر میں متوقع ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں اس قاتلانہ بم حملے میں شام کے خفیہ اداروں کے ملوث بتائے جانے کا امکان ہے۔
شام نے اس سال سخت بین الاقوامی دباؤ کے بعد لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلائی تھیں۔
خفیہ ادارے کے سربارہ
غازی کنعان کافی عرصے تک لبنان میں شام کے خفیہ اداروں کے سربراہ رہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس دوران لبنان کے تمام سینئر اہلکار سیاسی اور سلامتی امور پر غازی کنعان کو رپورٹ دیا کرتے تھے۔
غازی کنعان سنہ دو ہزار دو میں لبنان سے شام واپس آئے اور سنہ دو ہزار چار میں ان کو کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔
جولائی میں امریکی حکام نے ان کے امریکہ میں اثاثے یہ کہہ کر منجمد کیے تھے کہ غازی کنعان لبنان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔