Tuesday, 04 October, 2005, 00:44 GMT 05:44 PST
امریکی صدر جارج بش نے اپنی قانونی مشیر ہیریٹ میئرز کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔
ہیریٹ میئرز وائٹ ہاؤس کی قانونی مشیر ہیں اورانہوں نے کبھی جج کے عہدے پر کام نہیں کیا ہے لیکن وہ ممتاز قانونی ماہر جانی جاتی ہیں۔
امریکی سپریم کورٹ میں جج کے ریٹائر ہونے کی کوئی مدت نہیں ہے اور وہ اس وقت تک سپریم کورٹ میں رہ سکتا ہے جب تک وہ محسوس کرے کہ وہ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل ہے۔
امریکی سپریم کورٹ ملک کا بہت ہی اہم ادرہ ہے جو ملکی پالیسوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔امریکی سپریم کورٹ کے سامنے اس وقت خود کشی میں مدد کرنے کا حق، اسقاط حمل ، انسانی کلوننگ اور ہم جنسی شادیوں جیسے معاملات زیر غور ہیں۔
صدر بش کے ساٹھ سالہ ہیریٹ میئرز کو نامزد کرنے سے ان کے قدامت پسند حامیوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیریٹ میئرز کے اہم معاملات کے بارے میں خیالات کسی کو معلوم نہیں ہیں۔
ہیریٹ میئرز نے اگر قدامت پسند ججوں کا ساتھ دیا تو امریکی سپریم کورٹ میں قدامت پسندوں کا اثر بڑھ جائے گا۔
صدر بش نے سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہیریٹ میئرز نے اپنی زندگی قانون کی حکمرانی کے وقف کر رکھی ہے۔
امریکہ میں اس سے پہلے بھی عدالتی کام کا تجربہ نہ رکھنے لوگ کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا جاتا رہا ہے ۔ حال میں وفات پانے والے چیف جسٹس رینکویسٹ بھی عدالتی تجربے کے بغیر سپریم کورٹ کے جج مقرر کیے گئےتھے۔
گانگریس سے ہیریٹ میئرز کی نامزدگی کی تائید ہونا ابھی باقی ہے۔