http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 30 September, 2005, 11:48 GMT 16:48 PST

امریکی صحافی کو رہا کر دیا گیا

امریکہ میں نیویارک ٹائمز کی صحافی جوڈتھ ملر جنہیں اپنی خبر کا ذریعہ نہ بتانے پر جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی، رہا کر دیا گیا ہے۔

ملر کو اس وقت رہا کر دیا گیا کہ جب ان کے ذرائع نے انہیں اجازت دی کہ وہ ان کے درمیان ہونے والی بات چیت پر گفتگو کر سکتی ہیں۔

اس سلسلے میں امید کی جا رہی ہے کہ وہ جمعہ کی صبح گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہوں گی۔

یہ کیس دو ہزار تین میں سی آئی اے کی ایک ایجنٹ ولیری پلام کے نام کے
سامنے آنے کے بعد یہ کیس منظر عام پر آیا۔

پلام کے شوہر سابق سفارت کار تھے جہنوں نے عراق کے بارے میں امریکی صدر بش کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس دوران الزام لگایا گیا کہ مبینہ طور پر وائٹ ہاؤس کے کسی ذرائع نے ملر کا نام ظاہر کر دیا۔ امریکہ میں سی آئی اے کے ایجنٹ کے نام کا منظر عام پر آنا وفاق کی جانب سے سزا کا سبب بن سکتا ہے۔

بعد ازاں جوزف نے الزام لگایا کہ ان کی بیوی کا نام انتقاماً ظاہر کیا گیا۔

سپیشل کاؤسنل پیٹرک فٹزگیرلڈ نیویارک ٹائمز کی صحافی جوڈتھ ملر اور
ٹائم میگزین کے رپورٹر میتھو کوپر دونوں کو سزا دینا چاہتے تھے۔

لیکن جولائی کے آغاز میں کوپر نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا اور اس حوالے سے گواہی دینے پر راضی ہو گئے جبکہ ملر نے یہ کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد انہیں جیل ہوگئی۔ انہیں چھیاسی دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ملر کے ذرائع نےان کو اجازت دے دی ہے کہ وہ اب بطور گواہ کے انہیں لے سکتی ہیں۔

ملر نے ایک بیان میں کہا کہ ’ان کے ذریعہ نے رضاکارانہ اور ذاتی طور پر پراپنا نام خفیہ رکھنے کا وعدہ توڑتے ہوئے ملر کے ساتھ کی جانے والی بات چیت کو بتانے کی اجازت دے دی ہے‘۔