Thursday, 22 September, 2005, 14:43 GMT 19:43 PST
بصرہ کے گورنر محمد الوائلی نے دو روز پہلے جیل پر برطانوی فوج کے حملے سے ہونے والے پانچ لوگوں کی ہلاکت اور مالی نقصان کا معاوضہ طلب کرتے ہوئےکہا ہے کہ جب تک برطانوی حکام معافی نہیں مانگتے، عراقی حکام ان سے تعاون نہیں کریں گے۔
انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت بھی دی جائے۔
بصرہ کی شہری کونسل کے ایک سینئر رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ تعاون ختم کرنے کا فیصلہ آج ایک اجلاس میں کیا گیا۔
برطانوی فوجیوں نے بصرہ میں اپنا گشت کم کردیا ہے اور آج لگاتار دوسرے روز معمول کے برخلاف برطانوی اور عراقی فوجوں کا مشترکہ گشت بھی نہیں ہوا۔
بصرہ کے گورنر نے تعاون بحال کرنے کی دوسری شرائط میں مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے دونوں برطانوی فوجیوں کو بھی عراقی حکام کے حوالے کیا جائے۔
ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد سے لیس یہ دونوں فوجی ایک عام سویلین کار میں عرب باشندوں کے بھیس میں تھے اور انہیں عراقی پولیس نے روکا تھا تاہم رکنے کے بجائے ان فوجیوں نے عراقی پولیس پر فائرنگ کردی تھی۔
دونوں فوجیوں کی گرفتاری کے بعد برطانوی ٹینکوں نے بصرہ کی جیل پر دھاوا بول کر ان دونوں کو چھڑا لیا تھا۔اس کاروائی میں پانچ عراقی ہلاک ہوگئے تھے۔
برطانوی حکام نے دعوٰی کیا تھا کہ دونوں فوجیوں کو پولیس نے جیش مہدی کے حوالے کردیا تھا لیکن عراقی حکام نے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا اور عراقی وزیردفاع نے کہا تھا کہ برطانوی فوج نے افواہوں پر کارروائی کی۔