Tuesday, 20 September, 2005, 12:50 GMT 17:50 PST
افغانستان میں تیس سال سے زائد عرصے کے بعد پہلی مرتبہ پارلیمانی اور صوبائی انتخابات میں ووٹ ڈالے جانے کے بعد اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے جبکہ حتمی نتائج اگلے ماہ تک آنے کی امید ہے۔
افغان الیکشن کمیشن کے عہدیدار شہکر سیان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہرات، بامیان، قندوز اور قندھار میں گنتی کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل اور دیگر علاقوں میں گنتی دوپہر کے بعد شروع ہو جائے گی۔
گدھوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ووٹوں سے بھرے بیلٹ بکسوں کو گنتی کے مراکز تک پہنچایا گیا۔ ووٹ ڈالنے کا تناسب قریباً پچاس فیصد رہا جو کہ گزشتہ سال صدارتی انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں سے بیس فیصد کم ہے۔
ووٹنگ شرح میں کمی کی ایک وجہ لوگوں کا جنگی سرداروں کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ بھی تھا جبکہ کچھ ووٹر انتخابات کے معاملے میں تذبذب کا شکار رہے۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ منتخب پارلیمان ملک میں مضبوط جمہوریت کی بنیاد فراہم کرے گا۔ امریکی صدر بش سمیت دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی ’طالبان کو شکست‘ دینے کے لیے افغان ووٹروں کی تعریف کی ہے۔
افغانستان میں ایک کروڑ بیس لاکھ ووٹرز کو پانچ ہزار آٹھ سو نمائندے منتخب کرنے ہیں اور اس کے لیے چھبیس ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے۔
انتخابات سے قبل تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور طالبان کے ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر ملک بھر میں چالیس ہزار سے زائد پولیس والے اور فوجی پولنگ سٹیشنوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ تیس ہزار امریکی اور نیٹوں کے فوجی بھی سکیورٹی آپریشنز کے لیے موجود رہے۔
افغانستان میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران سات انتخابی امیدواروں سمیت ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔