Friday, 09 September, 2005, 11:40 GMT 16:40 PST
مصر پہلے کثیر امیدواری صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا کام مکمل ہو گیا ہے اور ووٹ کم شرح میں پڑے ہیں اور مصری صدر حسنی مبارک کو زبرست کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
مصری کمیشن نے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ انتخابات میں ایک چوتھائی سے بھی کم لوگوں نے حصہ لیا۔
صدر حسنی مبارک جو گزشتہ چوبیس سال سے بر سرِ اقتدار ہیں اس بار بھی ڈالے گئے ووٹوں کے اٹھاسی فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
ان کے بعد باقی امیدواروں میں ایک آزاد خیال وکیل ایمن نور نے سات اعشاریہ تین فی صد ووٹ حاصل کیے۔ ان کی پارٹی نے انتخابای نتائج کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ نتائج نا قابلِ قبول ہیںآ
ان کی پارٹی کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں جو دھاندلیاں ہوئی ہیں وہ ان نتائج سے صاف ظاہر ہیں۔ تاہم مصری الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابات میں کوئی بے قاعدگی نہیں ہوئی۔
بی بی سی کے عرب امور کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ پہلے ہی یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ووٹوں کی شرح کم رہے گی اور اس سے یہ بات بھی ظاہر ہے صدر حسنی مبارک اس بات کا دعوٰی نہیں کر سکتے کہ انہیں مقبولیت حاصل ہے۔
ملک کے سرکاری اخباروں نے پہلے ہیں اعلان کر دیا تھا کہ صدر حسنی مبارک ایک بار پھر کامیاب ہو گئے ہیں۔
غیر سرکاری اندازوں کے مطابق پہلے ہی کہا جا رہا تھا کہ حسنی مبارک کو اسی فیصد سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔
آزادانہ نگراں اداروں نے کہا ہے کہ ووٹنگ کے دوران بد عنوانی اور دھاندلیوں کے کچھ واقعات پیش آئے ہیں تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان واقعات سے انتخابات کے نتائج پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔