Thursday, 08 September, 2005, 01:50 GMT 06:50 PST
امریکی صدر بش ریاست لوئزیانا میں آنے والے سمندری طوفان کے بعد امدادی کارروائیوں کے لئے کانگریس سے اضافی پچاس ارب ڈالر کی رقم کا مطالبہ کریں گے۔
کانگریس کی طرف سے پہلے سے اعلان شدہ دس ارب ڈالر کے علاوہ یہ اضافی رقم امدادی کاموں ، پینے کے صاف پانی اور صحت عامہ کی مدوں میں استعمال کی جائے گی۔
اس طوفان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر نیو آرلینز کے مئیر نے بیماریوں کے پھیلنے کے خدشے کے سبب شہر کو پہلے ہی خالی کروانے کا حکم دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق شہر میں کم سے کم پانچ افراد آلودہ پانی کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
امریکہ کی ماحولیاتی تحفظ کی ایجینسی کے مطابق سیلابی پانی صحت کے لئے خطرناک ہے اور اس میں سیسے کی مقدار بہت زیادہ ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ مکمیلن کے مطابق امریکی انتظامیہ ہر ممکن امدادی کو ششیں کررہی ہے اور اضافی اکاون اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر اس سلسلے کی آخری کڑی نہیں ہوگی۔
مسٹر بش نے پچھلے ہفتے کانگریس کی طرف سے منظور شدہ دس ارب ڈالر کی رقم کے بارے میں کہا تھا کہ امدادی کاموں کے سلسلے میں یہ محض بیانہ یا ’ڈاؤن پیمینٹ‘ ہے۔
سمندری طوفان سے ہونے والے نقصان کے اندازوں سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس کی وجہ سے اس سال چار لاکھ سے زیادہ ملازمتیں ختم ہوں جائیں گی۔
اس امدادی پیکن کا اعلان ایک ایسی وقت پر کیا گیا ہے جب اس سمندری طوفان سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ ایک سو ارب ڈالر تک لگایا جارہا ہے۔